حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 160
حقائق الفرقان ١٦٠ سُورَةُ النِّسَاء اپنے مالوں میں ملا کر خرد برد نہ کرو کیونکہ یہ ( بہت ہی ) بڑا گناہ ہے۔ تفسیر۔ وَأَتُوا الْيَتَى أَمْوَالَهُمْ ۔ مظلوموں میں یتیم بڑا مظلوم ہے۔ ایک جگہ فرمایا ہے لا تقربوا مَالَ الْيَتِيمِ (الانعام: ۱۵۳) وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۔ ان کی عمدہ چیز اپنی کسی رڈی سے مت بدلاؤ۔ حُوبًا كَبِيرًا ۔ بھاری گناہ ۔ حرام خوری کی بہت قسمیں ہیں۔ جو نو کر اپنی نوکری نہیں کرتا وہ حرام خور ہے۔ جو طبیب راکھ کی پڑیا بنا کر سونے کے نام سے دے وہ بھی حرام خور ۔ جو حرفے والے اپنے حرفے میں فریب کرے وہ بھی حرام خور۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۹ مؤرخہ ۲۲ جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۷۳) الْخَبِيثَ بِالطَّيِّب - جو مال اُن کا ہے وہ تمہارے لئے حرام اور خبیث ہے اور تمہارا اپنا مال طیب ۔ تشحیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۷) وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّب - اور امانت کی اچھی قیمتی چیزوں کے بدلہ میں خراب رڈی چیزیں نہ دو یا حرام حلال کے بدلہ نہ لو۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن۔ صفحہ ۲۲) - وَإِنْ خِفْتُمُ اَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَثْنى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلثَ وَ رُبعَ فَإِنْ خِفْتُمُ اَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا - ترجمہ۔ اور اگر تم کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف قائم نہ رکھ سکو گے تو اپنی مرضی کے مطابق دو دو اور تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کر لو۔ پھر اگر تم کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ ( کئی بیبیوں میں ) برابری کے ساتھ برتاؤ نہ کر سکو گے تو (اس صورت میں ) ایک ہی بی بی کرنا یا وہ جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں نامنصفانہ برتاؤ سے بچنے کے لئے یہ تدبیر زیادہ تر قرین مصلحت ہے۔ اے یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ۔ ( ناشر )