حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 5
حقائق الفرقان ♡ سُورَةُ آل عِمْرَان ۹۸ - هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ أَيْتُ مُحْكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتٰبِ وَ آخَرُ مُتَشْبِهُتُ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللهُ وَ الرَّسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبَّنَا ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أولُوا الْأَلْبَابِ - رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ - ترجمہ (اللہ ) وہی ذات پاک ہے جس نے تم پر کتاب اُتاری جس کی آیتیں مضبوط ہیں وہ اصل اور جڑ ہیں اور کچھ اور آیتیں ہیں جن کے کئی کئی معنی ہیں تو جن کے دلوں میں کبھی ہے ( یعنی جو الٹی کھو پری کے ہیں) وہ پیچھے پڑ جاتے ہیں ان آیتوں کے جو شبہ میں ڈالتی ہیں اور صاف طور پر سمجھ میں نہیں آتیں فتنہ فساد پیدا کرنے کے ارادے سے اور اصل مطلب سمجھنے کے ارادے سے حالانکہ اس کا صحیح مطلب اللہ ہی جانتا ہے اور جو لوگ پختہ ہیں علم میں ( وہ ہر ایک حکم کو اللہ ہی کی طرف سے مانتے ہیں) اور کہتے ہیں کہ ہم نے اس کو مانا سب کچھ ہمارے رب کی طرف سے ہے اور اُسے یاد نہیں کرتے اور سمجھانے سے بھی نہیں سمجھتے مگر عقلمند ہی لوگ۔ اے ہمارے رب ! تو ہمارے دلوں کو کجی اور بد سمجھی سے بچا اس کے بعد کہ تو ہم کو سمجھ دے چکا اور عطا فر ما ہم کو خاص اپنے پاس کی رحمت تو ہی بڑا دینے والا ہے۔ تفسير هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ - اس نے تم پر جامع کمالات کتاب اُتاری جس میں بعض آیات تو محکمات ہیں وہ ام الکتب ہوئیں اور باقی بعض متشابہات ۔ افسوس ! اللہ نے تو یہاں علم کے حصول کا گر بتایا تھا۔ یہ نہیں کہ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُم مِّنَ الْعِلْمِ (المؤمن : (۸۴) بلكه ۔۔۔ وَ اتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقرة : ۲۸۳) مگر یہ لوگ بجائے اس کے کہ اِس لطیف کتاب سے فائدہ اُٹھاتے اور بھی جھگڑے میں پڑ گئے۔ محکمات متشابہات کا مسئلہ بہت صاف تھا مگر مسلمانوں کے اس اے یہ لوگ خوش ہوئے اس پر جو ان کے پاس علم تھا۔ ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ ہی کو سپر بناؤ اور اللہ تم کو سکھاتا ہے ۔(ناشر)