حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 143
حقائق الفرقان ۱۴۳ سُورَةُ آل عِمْرَان لوگوں کا خیال ہے قریشیوں نے مسجد میں اذان دی تو وہ ایسی ویران ہوئی کہ نہ اس میں کوئی بھینس باندھی جا سکتی ہے نہ گائے ۔ پس یہ اذان دے کر ہمارے گھر کو بھی مسجد یعنی ویران بنادیں گے۔ پس وہ ڈرتے مارے بھینس لے آئے۔ میں نے دیکھا ہے کہ پیر خود بھی لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ کسی پر ناراض ہوں اور اتفاق سے کوئی حادثہ پیش آ جائے تو اپنی طرف منسوب کرتے ہیں مگر انبیاء ایسے نہیں ہوتے وہ توحید کا جوش رکھتے ہیں اس لئے ہر نیک بات اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ دُکھ اپنی شامت اعمال کا نتیجہ ہیں ۔ یہ يهِ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ کی تفسیر ہے۔ اس میں بتایا ہے کہ مصیبت تمہاری نافرمانی کا نتیجہ ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ کی شریعت کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو سز ا ملتی ہے۔ قرآن پہلے سید و قریش کے گھر سے نکلا ( گواب اس نکلنے کے یہ معنے ہیں کہ نکل ہی گیا ) اور یہی لوگ اب قرآن سے جاہل ہوتے جاتے ہیں حالانکہ ان کی بڑائی کی وجہ ہی یہی تھی کہ وہ قرآن شریف جانتے تھے۔ لوگوں نے قرآن شریف سے دین و دنیا کے فائدے اُٹھائے ہیں مگر پھر تو نیتوں میں فتور آ گیا۔ ایک محلہ میں بہت سے حافظ رہتے تھے۔ والد صاحب نے کہا کہ جانتے ہو کہ یہ کیوں اتنے حافظ ہیں ۔ میں نے کہا فرمائیے ۔ کہا یہ لوگ کابل کی طرف تجارت کرتے ہیں اور وہاں حفاظ قرآن کے لئے محصول تجارت معاف ہے۔ پس یہ حافظ بن جاتے ہیں۔ ایک اور حافظ قرآن شریف یاد کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا آپ قرآن کیوں یاد کرتے ہیں؟ کہا کہ قرآن شریف یاد کر کے کلکتہ جاؤں تو دوسور و پیر لاؤں سندھ جاؤں تو ایک سو روپیہ ۔ سور پیہ۔ یہ تو پڑھنے والوں کا حال ہے اور جن کو پڑھنا چاہیے اور نہیں پڑھتے ان کا حال سنو کہ ایک بڑے آدمی سے میں نے کہا۔ آپ پڑھتے کیوں نہیں ۔ تو وہ بڑے جوش میں آ کر کہنے لگا۔ کیوں ہم کوئی بندر ہیں؟ سیکھتے تو بندر ہیں شیر نہیں سیکھتے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں بھی ایک مثال پیش کروں ۔ باز تو سیکھتے ہیں مگر کوے نہیں سیکھتے۔ یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ ایسا فرقہ بھی ہے جو اپنے نیک اور