حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 142
حقائق الفرقان ۱۴۲ سُورَةُ آل عِمْرَان پہلے لوگوں کو احکام الہی سنائے جاویں۔ ان کو کتاب و حکمت سکھائی جاوے۔ پھر ان کا تزکیہ ہو۔ تین مرتبے ہیں يَتْلُوا يُعَلِّمُهُمْ يُزَكِّيهِمْ - حدیث میں ان کو اسلام ، ایمان ،احسان سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ( بدر جلد ۹ نمبر ۱۴ مؤرخہ ۲۷ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه (۹) ١٦٦ - أو لَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هُذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - ترجمہ کیا جب آ پڑی تم پر ایک مصیبت حالانکہ تم ان کو پہنچا چکے ہو دو چند اس سے تم کہنے لگے یہ مصیبت ہم پر کہاں سے آ پڑی۔ جواب دو یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔ تفسیر۔ بہت سے لوگ ہیں کہ انہیں دنیا کے کاموں میں بہت تکلیف پہنچتی رہتی ہے مگر اس کام کو چھوڑ نہیں دیتے لیکن اگر دین میں کچھ تکلیف پہنچے تو بہت جلدی بے دلی ظاہر کرتے ہیں ۔ میں ایک بزرگ سے پڑھتا تھا جو ہمیشہ سے سفر میں رہتے۔ جب وہ کہیں جاتے مجھے بھی ساتھ جانا پڑتا۔ ایک دفعہ کسی شخص کی بھینس چور لے گئے ۔ چوروں کا پتہ مل گیا۔ ہمارے استاد کو سفارش کے لئے وہ لوگ جن کا نقصان ہوا تھا لے گئے ۔ وہاں جا کر انہوں نے بہت کچھ کہا مگر چور یہی کہتے کہ بدلے کی دینی ہے اصل نہیں دیتے ۔ اور وہ گاؤں ایسا تھا کہ اس میں سب مال چوری ہی کا تھا۔ ہمارے دوست ایک اور طالب علم تھے جو اولاد میں سلطان باہو رحمتہ اللہ کے ۔۔۔۔۔۔ تھے انہوں نے کہا ہم خود کچھ انتظام کرتے ہیں یہ لوگ مولویوں کی بات نہیں مانتے ۔ تم میرے ساتھ چلو وہاں جا کر تم نے کہنا ۔ آج ۔ میں کہوں گا۔ نہیں کل ۔ چنانچہ ہم گئے اور ایسا ہی کیا۔ ایک نوجوان نے حیرت سے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ میرے دوست نے کہا یہ قریشی ہیں اور چلے ہیں تمہارے گھر اذان دینے۔ اس نے کہا خدا کے لئے ذرا ٹھہر جاؤ اور وہ دڑتا ہوا گھر گیا کہ غضب ہو گیا۔ ستم ہو گیا۔ چنانچہ وہ لوگ ہمارے استاد کے پاس گئے اور گیاکہ کہا کہ ہم بھینسیں لا دیتے ہیں خدا کے لئے ہمارے گھر اذان نہ کہنا۔آخرانہوں نے راز بتا یا کہ ان