حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 141
حقائق الفرقان ۱۴۱ سُورَةُ آل عِمْرَان ۱۶۵ - لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنْفُسِهِمُ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ - ترجمہ۔ بے شک اللہ نے مومنوں پر احسان کیا یہ جو بھیج دیا اُن میں ایک رسول انہیں میں سے اور وہ پڑھ کر سناتا ہے اُن کو اللہ کی آیتیں اور ان کو پاک صاف کرتا ہے اور کتاب پڑھاتا ہے اور سمجھ کی باتیں سکھاتا ہے یقینا وہ اس سے پہلے صریح جہالت میں تھے۔ تفسير - يُزَكِّيهِمْ ۔ اپنی توجہ سے مرگی بنائے گئے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۸ مؤرخہ ۱۵ جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۷۱) یا د رکھو صرف علم تسلّی بخش نہیں ہو سکتا جب تک معلم نہ ہو ۔ بائیبل میں نصیحتوں کا انبار موجود ہے اور عیسائی بھی بغل میں کتاب لئے پھرتے ہیں ۔ پھر اگر ایمان صرف کتابوں سے مل جاتا تو کیا کمی تھی ۔ مگر نہیں ۔ ایسا نہیں ۔ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھیجتا ہے جو يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب کے مصداق ہوتے ہیں ۔ ان مزگی اور مطہر لوگوں کی توجہ ، انفاس اور روح میں ایک برکت اور جذب ہوتا ہے جو ان کے ساتھ تعلق پیدا کرنے۔ پیدا کرنے سے انسان کے اندر تزکیہ کا کام شروع کرتا ہے۔ یا درکھو انسان خدا کے حضور نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ کوئی اس پر خدا کی آیتیں تلاوت کرنے والا اور پھر مزگی کرنے والا اور پھر علم اور عمل کی قوت دینے والا نہ ہو۔ تلاوت تب مفید ہو سکتی ہے کہ علم ہو اور علم تب مفید ہو سکتا ہے جب عمل ہو اور عمل تزکیہ سے پیدا ہوتا ہے اور علم معلم سے ملتا ہے۔ (احکم جلد ۵ نمبر ۴۳ مؤرخہ ۲۴ نومبر ۱۹۰۱ صفحہ ۸) ر وعظ میں عبودیت کا رنگ ہو ۔ اللہ کی کتاب پڑھی جاوے۔ اس کی حقیقت بتائی جاوے اور پھر اس کی تعلیم سے دل اس قسم کے پیدا ہوں جو اس تعلیم کے ساتھ مطہبر و پاک ہو جاویں۔ ایک بھی ہزار لوگوں میں سے ایسا پیدا ہو جاوے تو غنیمت ہے بلکہ اکسیر احمر ہے۔ ( بدر جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ صفحه (۲)