حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 94
حقائق الفرقان ۹۴ سُورَةُ آل عِمْرَان لگایا اور وہاں دوسرا قربان گاہ بنایا اور اس کے پچھم ایک بیت ایل کا بیان کیا جو بیت ایل سمندری ہے۔ یم سمندر کو کہتے ہیں اور وہاں لفظ بیت ایل یم ہے اور نیز آخر میں کہا ہے ابرام رفتہ رفتہ دکھن پہنچا اور مسیح فرماتے ہیں کہ دکھن کی ملکہ شہر سبا کی شہزادی تھی جو سلیمان کے پاس آئی اور صاف ظاہر ہے کہ بیت اللہ جسے مکہ کہتے ہیں کنعان سے دکھن کی طرف واقع ہے۔ علاوہ بریں پیدائش ۱۳ باب ۳ میں ابرام کی نسبت لکھا ہے کہ وہ دکھن کی طرف چلا اور سفر کرتا دکھن سے بیت ایل میں پہنچا۔ اور تراجم موجودہ میں جو فقرہ اس کے بعد لکھا ہے وہ توریت کا فقرہ نہیں اور قومی روایات ، ملکی تو اتر ، رسومات کا توافق ، ابراہیمی عبادات سے ختنے کی رسم ، قربانی وغیرہ مناسک میں اتحاد، تمام اقوام عرب کا اس بات پر نسلاً بعد نسل اتفاق صاف گواہی دیتا ہے کہ ابراہیم کو اس مسجد سے تعلق ہے جسے بیت اللہ کہتے ہیں ۔ پھر کوئی امر قانونِ قدرت میں اور کوئی ضروری اور بدیہی علم ہمیں اس اعتقاد سے پھرنے پر مجبور نہیں کر سکتا ۔ یسعیاہ ۶۰ باب ۶ ۔ اونٹنیاں کثرت سے تجھے آ کے۔ آ کے چھپا لیں گی ۔ مدیان اور عیفہ کی جوان اونٹنیاں وے سب جو سبا کے ہیں آویں گے۔ ۷۔ قیدار ( پسر اسمعیل ) کی ساری بھیڑیں تیرے پاس جمع ہوں گی۔ نبیط ( پسر اسمعیل) کے مینڈھے تیری خدمت میں حاضر ہوں گے۔ وہ میری منظوری کے واسطے میرے مذبح پر چڑھائے جاویں گے اور میں اپنی شوکت کے گھر کو بزرگی دوں گا۔ یہ کون ہیں جو بدلی کی طرح اُڑتے آتے ہیں اور کبوتر کے مانند اپنی کابک کی طرف ۔ یقیناً بحری ممالک تیری راہ تکیں گے اور ترسیس کے جہاز پہلے آویں گے۔ ۱۰۔ اجنبیوں کے بیٹے بھی تیری دیوار اُٹھائیں گے اور ان کے بادشاہ تیری خدمت گزاری کریں گے۔ اگرچہ میں نے اپنے قہر سے تجھے مارا پر اپنی مہربانیوں سے تجھ پر رحم کروں گا اور تیری پھاٹکیں نت کھلی رہیں گی۔ وے دن رات کبھی بند نہ ہوں گی۔ ۱۴ ۔ ہاں وہ سب جنہوں نے تیری تحقیر کی تیرے پاؤں پڑیں گے اور وہ خدا کا شہر اسرائیل کے