حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 93
حقائق الفرقان ۹۳ سُورَةُ آل عِمْرَان تھے اور ہمیشہ بنی اسمعیل کو یہ معمار قوم حقیر جانتے تھے الا عرب میں قدیم سے اسی لئے کہ وہ ان پڑھ قوم تھی تصویری زبان میں بطور پیشین گوئی اور بشارات کے یہ یسعیاہ ۲۸ باب ۱۶ اور متی ۲۱ باب ۴۲ اور دانیال ۲ باب ۳۴ والا کلام سکتے میں اس طرح سے تحریر ہوا کہ بیت اللہ کے کونے پر ایک بن گھڑا پتھر نصب کیا گیا جس کے ساتھ یہ بات کی جاتی تھی کہ اسے صرف ہاتھ لگاتے جو بیعت اور اقرار کا نشان ہے۔ مطلب یہ کہ اس پاک شہر میں وہ کونے کا پتھر ہو گا جس کے ہاتھ پر بیعت کرنا ضرور ہے۔ جو کوئی اس پر گرے گا چور ہو گا جس پر یہ گرا اسے پیس ڈالے گا۔ حسب بیان دانیال ۲ باب ۔ بابل کا حال دیکھ لو۔ نادان کہتے ہیں مسلمان پتھر کی پرستش کرتے ہیں۔ آریہ اور عیسائی بتا ئیں عبادت کسے کہتے ہیں ۔ عبادت میں انستتی، حمد اور تعریف، پرارتھنا یعنی دعا اور اُ پاشنا یعنی دھیان ضرور ہے ۔ بتائیں مسلمان کب اس پتھر کی تعریف اور اس سے دعا اور اس کا دھیان کرتے ہیں۔ اسلامی کسی عبادت میں اس پتھر کا ذکر بھی نہیں بلکہ عبادات اسلامیہ میں تو مکے کا ذکر بھی نہیں ۔ اس کی عبادت کیا ہو گی؟ اگر اس کو ہاتھ لگانا یا چومنا عبادت ہے تو سب لوگ بیاہی ہوئی عورتوں کے عابد اور خدا کو سجدہ کرنے والے زمین کے پجاری ہوں گے۔ بات یہ ہے کہ مقدس مقام میں تصویری زبان کے اندر یہ گفتگو ہے کہ نبوت کی پاک محل سرا میں کونے کا پتھر یہاں مکے سے نکلے گا بلکہ مسیح نے متی ۲۱ باب ۳۳ میں خود کہا ہے کہ یہ تمثیل ہے ۔ انتہی ۔ نفس وجو د کعبہ اور بیت اللہ کا ثبوت پیدائش ۱۲ باب ۶ - ۹ ۔ ابراہیم نے خداوند کے لئے کنعان میں ایک قربان گاہ بنائی اور وہاں سے روانہ ہو کے اُس نے بیت ایل کے پورب ایک پہاڑ کے پائیں اپنا ڈیرہ کھڑا کیا۔ بیت ایل اس کے پچھم اور علی اس کے پورب تھا اور وہاں اس نے خدا کے لئے ایک قربان گاہ بنائی اور خداوند کا نام لیا اور ابرام رفتہ رفتہ دکھن کی طرف گیا یہاں جس بیت ایل کا تذکرہ ہے وہ ضرور مکہ ہی ہے کیونکہ کنعان عرب کے حدود میں ہے اور لکھا ہے قربان گاہ بنا کے جب روانہ ہوا پھر ایک جگہ ڈیرا بنا ۔