حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 275 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 275

حقائق الفرقان ۲۷۵ سُورَةُ الْبَقَرَة میں ہے فَرُفِعَ لَنَا الْجَبَل تو اس کے یہ معنی نہیں کہ پہاڑ اکھیڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر رکھ دیا گیا۔ خُذُوا مَا آتَيْنَكُم بِقُوَّةٍ - جیسے بنی اسرائیل کو تو رات محکم پکڑنے کا حکم تھا ایسا ہی ہمیں قرآن مجید کے بارے میں حکم ہے۔ اگر مانو گے تو فائدہ ہوگا اور اگر نہ مانو گے تو گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔ عورتوں کا بڑا حصہ تو قرآن سنتا ہی نہیں ۔ امیر بھی بدبختی سے قرآن نہیں سن سکتے نہ با جماعت نماز پڑھ سکتے ہیں۔ زمینداروں کو فرصت نہیں ۔ فصل خریف سے فراغت پا کر کماد پیڑ نے کا موسم آ جائے گا۔ پھر ہم سے سوال کئے جاتے ہیں کہ سفر میں روزہ معاف ہے تو کٹائی کے موقع پر بھی کر دیجئے حالانکہ میں ایسا مجتہد نہیں ۔ تمہیں دنیا میں خبر ہے یہود نے کیا کیا ؟ انہوں نے سبت ( خواہ ہفتہ میں ایک دن عبادت کا ، اس کے معنے کرو، خواہ آرام کے معنے لو ) میں بے اعتدالی کی ۔ آرام میں ، آسودگی میں انسان اپنے مولی ، ۱۔ اپنے مولی ، اپنے حقیقی محسن کو بھول جاتا ہے۔ میں نے اپنی اولاد کے لئے بھی دولت کی دعا نہیں کی۔ اس اعتداء کی پاداش میں ان کو ایسا ذلیل کیا جیسے بندر، کہ قلندر کے نچانے پر ناچتا ہے۔ یہی حال آجکل مسلمانوں کا ہے۔ ان کا اپنا کچھ بھی نہیں انگریزوں کے نچانے پر ناچتے ہیں۔ جولباس ان کا ہے وہی یہ اختیار کرتے ہیں ۔ جو فیشن وہ نکالتے ہیں ، جو ترقی کی راہ بتلاتے ہیں بلا سوچے سمجھے اس پر چل پڑتے ہیں ۔ ایسی حالت میں کب لا خَوْفٌ وَلَا يَحْزَن ہو سکتے ہیں۔ یہ حالت کیوں ہوئی اس لئے کہ خدا کی کتاب کو چھوڑ دیا۔ میرے پیارو ! تم خدا کی کتاب پڑھو۔ اس پر عمل کرو !! الفضل جلد نمبر ۲۱ مورخه ۵ نومبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۱۵) خُذُوا مَا آتَيْنَكُمُ بِقُوَّت ۔ بڑی قوت سے اس پر عمل کرو۔ البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۴ نومبر ۱۹۱۲ ء صفحه ۶۹ ) اے ہمارے سامنے پہاڑ ظاہر ہوا۔ (ناشر)