حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 274 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 274

حقائق الفرقان ۲۷۴ سُورَةُ الْبَقَرَة فرمایا ۔ اگر تم اس کو ماننے والے ہوتے تو تم نبیوں کا مقابلہ کیوں کرتے ۔ وہ اگر کہیں کہ ہم ان کو نبی نہیں سمجھتے تو فرمایا کہ موسی بھی تو توحید لائے تھے تم نے ان کا کیوں انکار کیا ؟ الفضل جلد ا نمبر ۲۸ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحه (۱۵) قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنْبِيَاءَ اللهِ ۔ تم نے کس لئے اللہ کے انبیاء کو قتل کیا جو پہلے آئے۔ میرے خیال میں تو صاف ظاہر ہے کہ انبیاء تو قتل نہیں ہوئے میرے نزدیک قتل کے معنے سخت مقابلہ کے ہیں۔ البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۴ رنومبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۶۹) ۹۳، ۹۴- وَلَقَدْ جَاءَكُمْ مُوسَى بِالْبَيِّنَتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَ انْتُم ظُلِمُونَ وَ اِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا أتَيْنَكُمْ بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَ أَشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيْمَانُكُمْ إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ ۔ ترجمہ۔ (اور اچھا جب کہ ) تمہارے پاس موسیٰ کھلے کھلے نشان لے کر آچکا تھا تو تم نے اس کے پیچھے بچھڑے کی پوجا ( کیوں ) شروع کر دی تھی اور تم ( کیوں ) مشرک ہو گئے؟ اور (اچھا ) جب کہ ہم نے کوہ طور کوتم پر بلند رکھ کر شریعت کی پابندی کا تم سے عہد لیا تھا کہ جو حکم تم کو دیئے جاتے ہیں ان کو خوب مضبوط پکڑو اور خوب سنو ( بظاہر تو انہوں نے ) یہی کہا کہ جی ہاں ہم نے سنا ( مگر دل میں وہی نیت ) نافرمانی کی رہی اور ان کے کفر کے سبب سے اُن کے دلوں میں بچھڑے کی محبت خوب رچ گئی ، اُن سے کہہ دو کہ جب تم ایسے ہی ایمان دار ہو تو پھر یہ تمہارا ایمان تم کو بُری راہ سکھاتا ہے۔ تفسير عَصَيْنَا ۔ مان تو لیا مگر ہم سے اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔ اشْرِبُوا ۔ رچ گئی تھی۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۲۵ رفروری ۱۹۰۹ صفحه ۱۶) ایک پہاڑی پر جس کا نام حراء ہے ہماری سرکار سے بھی اللہ نے کلام کیا ۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ سے بھی ایک پہاڑ پر کلام ہو اجس کا نام طور ہے ۔ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّور کے معنے ہیں کہ اس کے دامن میں سب قوم کو کھڑا کیا ۔ جیسے بولتے ہیں لاہور شہر راوی کے اوپر ہے۔ ایسا ہی ہجرت کی ایک حدیث