حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 276 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 276

حقائق الفرقان ۲۷۶ سُورَةُ الْبَقَرَة ۹۶۰۹۵ - قُلْ إِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِنْدَ اللَّهِ خَالِصَةً مِّنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ - وَ لَنْ يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّلِمِينَ - ترجمہ (اور اچھا یہ بھی ) تم ان سے کہہ دو کہ اگر آخرت کا گھر اللہ کے نزدیک سب لوگوں کے سوا خالص تمہیں کو ملے گا تو تم سب کے سب میرے مرنے کے لئے بددعائیں کرو جب تم سچے ہو۔ اور وہ ہرگز ہرگز اس فیصلہ کی آرزو نہ کریں گے جو اُن کے سامنے ہے کیونکہ وہ آگے بڑے کرتوت کر چکے ہیں اور اللہ تو ظالموں سے خوب واقف ہے۔ تفسیر - تَمَنَّوُا الْمَوْتَ ۔ اِس کے دو معنے ہیں ۔ دونوں پسند ہیں۔ ایک تو یہ کہ تم سب مل کر اس نبی کے مرنے کی دعائیں کر لو اور پھر دیکھو کہ یہ دعا مقبول ہوتی ہے یا نہیں یا الٹی تم پر پڑتی ہے یا وہ جنگ کر لو جو ایک گروہ کو فنا کر دے۔ موت بمعنی جنگ ۔ قرآن کریم میں بھی آیا ہے۔ چنانچہ فرمایا و لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ - (ال عمران ال عمران: ۱۴۴) ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۲۵ رفروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۶) قُلْ إِنْ كَانَتْ ۔ اچھا تو یہ بتاؤ کہ آخرت پر ایمان لاتے ہو اور اپنے آپ کو کامیاب ہونے والا سمجھتے ہو تو آؤ ایک فیصلہ کن جنگ کر لومگر ہم جانتے ہیں کہ یہ زندگی کے بڑے شائق ہیں ۔ مگر یہ یا در ہے کہ بڑی عمر پا نا عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ ( البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخہ ۱۴ رنومبر ۱۹۱۲ء صفحه ۶۹) ۹۷ - وَ لَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيُوةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَبَّر اور وام وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ - ترجمہ۔ اور تو ان کو سب سے زیادہ دنیا کی زندگی پر حریص لوگوں سے پائے گا اور یہ مشرک نصاری وغیرہ آرزو کرتے ہیں کہ کاش ان میں سے ہر ایک ہزار ہزار سال کی عمر پاوے اور اگر ہر لے اور بے شک تم ایسی جنگیں چاہتے تھے جنگوں کے پیش آنے سے پہلے ۔ ( ناشر )