اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 988 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 988

فمن اظلم ٢٤ ۹۸۸ الزمر ٣٩ ) عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَلِدِينَ عَلَيْكُم تم خوش نصیب و خوش حال ہو پس بہشت میں داخل ہو ہمیشہ رہنے کے لئے۔وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ ۷۵۔اور بہشتی کہیں گے الحمد للہ کیسا اللہ اچھا ہے وَاَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ جس نے ہم کو سچ کر دکھلایا اپنا وعدہ اور ہم کو وارث بنایا اس زمین کا کہ ہم رہیں بہشت میں جہاں نَشَاءُ ۚ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَمِلِينَ چاہیں تو کیا اچھا بدلہ ہے نیک کام کرنے والوں کا۔وَتَرَى الْمَلَبِكَةُ حَافِينَ مِنْ حَوْلِ۔اور تو دیکھے گا فرشتوں کو حلقہ باندھے ۷۶ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ۚ وَقُضِيَ ہوئے عرش کے آس پاس تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اور فیصلہ کر دیا بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ جائے گا لوگوں میں حق حق اور کہا جائے گا سب تعریف اور واہ واہ اسی اللہ کی ہے جو العلمينَ سب جہانوں کو آہستہ آہستہ کمال کو پہنچانے والا ہے۔یعنی عظمت و تجلی گاہ کے مقام کے آس پاس سُبْحَانَ اللَّهِ وَ بِحَمْدِهِ کہتے کھڑے ہیں۔آیت نمبر ۷۵- حَيْثُ نَشَاءُ۔جہاں ہم چاہیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مخصوص و محدود مکان میں بہشتی نہ رہیں گے بلکہ جہاں چاہیں گے چلیں پھریں گے، رہیں گے ، بسیں گے۔آیت نمبر ۷۶۔اَلْعَرْش۔یعنی مجلس السلطان۔دربار شاہی۔ہم عرش کو مخلوق اس لئے نہیں کہتے کہ صفات اللہ غیر محدود ہیں اور مخلوق اس حیثیت سے مانتے ہیں کہ توحید میں فرق نہ پڑے۔اور امام احمد بن حنبل" کا مذہب عرش کے مقدمہ میں بہتر ہے کہ ہم اس کی کیفیت سے محروم ہیں اور اس کے وجود کے قائل ہیں۔