اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 92 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 92

تلك الرسل ٣ ۹۲ البقرة ٢ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا سو برس پھر اٹھا کھڑا کیا پوچھا تو کتنی دیر رہا، اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ نَبِثْتَ مِائَةَ جواب دیا ایک دن یا ایک دن سے کم ،فرمایا بلکہ رہا تو سو برس اب تو دیکھ اپنے کھانے اور پینے کی عَامِ فَانْظُرُ إِلى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَم چیز کی طرف کہ سڑی تک نہیں یا اُس پر برس نہیں يَتَسَنَّهُ وَانْظُرُ إِلى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ گزرا اور دیکھ تو اپنے گدھے یا قوم کی طرف اور آيَةً لِلنَّاسِ وَانْظُرُ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ تا کہ ہم بنائیں تجھ کو نشان ونمونہ لوگوں کے لئے اور دیکھ ہڈیوں کی طرف کس طرح ہم ان کا ڈھانچ تُنْشِرُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ بناتے ہیں پھر پہنا دیتے ہیں اُس پر گوشت تو جب لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ اُس پر کھل گیا حال بولا میں بخوبی جانتا ہوں کہ بے شک اللہ ہر شے کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔قَدِيرٌ وَإِذْ قَالَ إِبْراهِمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُخي ۲۶۱۔(اوراے پیغمبر! وہ کیفیت بھی بیان کر) جب الْمَوْتُ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنُ قَالَ بَلَى کہا ابراہیم نے اے میرے رب مجھ کو دکھا دے کہ تو کس طرح زندہ کرتا ہے یا کرے گامر دے۔فرمایا (بقیہ حاشیہ) عَلى قَرْيَةٍ سے مراد بیت المقدس ہے۔فَاَمَاته الله - اللہ نے مارا اور وہ مر گیا۔مِائَةَ عَامٍ - مَفْعُول فِیهِ یه ظرف ہے۔اس صدی میں مر گیا جب وہ قر یہ ویران تھا۔ثُمَّ بَعَثَهُ - وَالْبَعْثُ بَعْدَ الْمَوْتِ حَقٌّ عالم برزخ بھی مراد ہے۔لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ - سو برس کے بعد آبادی کی پیشینگوئی تھی۔لَمْ يَتَسَنَّ۔تازہ بتازہ اور جس پر برس نہیں گزرا۔وَلِنَجْعَلَكَ ايَةً۔تجھے نشان بنائیں گے مردہ بھی باعتبار پیش گوئی کے نشان ہو سکتا ہے فرعون کو بھی کہا۔لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً (يونس: ٩٣) - آیت نمبر ۲۶۱ - كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتی۔تو مُردے کو کیسا زندہ کرتا ہے۔مُردے یعنی شہداء وغیرہ۔ایمان تو ہے عرفان میں ترقی چاہتا ہوں۔