اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 93
تلك الرسل ٣ ۹۳ البقرة ٢ وَلَكِنْ لِيَطْمَبِنَّ قَلْبِي قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً کیا تجھ کو یقین نہیں؟ عرض کی جی ہاں! یقین تو مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى ہے لیکن میں ذرا دل کی تسکین (اور) چاہتا ہوں۔اللہ نے فرمایا تو چار پرندے لے اور بھلا كُلِّ جَبَل مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِيَنَكَ لے اُن کو اپنے پاس پھر ڈال دے ہر پہاڑی پر نیچے اُن میں سے ایک جزء پھر پکار اُن کو تیرے پاس سَعيًا وَاعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمُ : دوڑتے چلے آئیں گے اور جان رکھ تو کہ بے شک اللہ زبردست حکمت والا ہے۔مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ ۲۶۲ - اُن لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ اللهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ میں خرچ کرتے ہیں اُس دانہ کے جیسی مثال ہے جس سے سات بھٹے پیدا ہوں ہر بھٹے میں سو سُنبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ سودانے ہوں اور اللہ زیادہ دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ بڑی گنجائش والا بڑا جاننے والا ہے۔يشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ ۲۶۳ - جولوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں پھر خرچ کئے پیچھے نہیں جتاتے احسان اور (بقیه حاشیه) فَصُرْهُ۔ہلالے ان کو۔بخاری نے اس کے معنی امِل هُنَّ مائل کرلے ان کو اپنی طرف جیسے پرندے ہلائے جاتے ہیں کئے ہیں اور فصرهُنَّ کے دوسرے معنی صورت پہچان رکھ۔ایک معنی ہیں پچل ڈال قیمہ کر ڈال اور ان کو پراگندہ کر ڈال۔بعض کہتے ہیں کہ ابراہیم نے نہیں کیا کیونکہ عظمت الہی کا جلال تھا۔مجاہد نے کہا کیا ہے۔میرا ایمان ہے کہ کیا۔كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْٹی کا جواب یعنی جہاں مردے زندہ ہوتے ہیں تو نظر کشفی سے وہاں دکھا دیا۔انَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمُ۔اللہ غالب حکمت والا ہے۔قصہ ہائے مذکورہ ضمن جہاد ہیں ویرانی اور تباہی اور فوت اقرباء موجب حزن نہ ہو کیونکہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔آیت نمبر ۲۶۲- يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ۔جو اپنے مال خرچ کرتے ہیں انجیل متی باب ۵ آیت ۴۲ میں لکھا ہے کہ سائل جو سوال کرے دو“۔یہ تعلیم کا حد سے بڑھا ہوا طریقہ ہے۔یہاں کا خرچ بھی جہاد کے سلسلہ میں ہے۔آیت نمبر ۲۶۳- يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ۔جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں چندے اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے۔