اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 91
تلك الرسل ٣ ۹۱ البقرة ٢ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ جا تا اور مارتا ہوں۔ابراہیم نے کہا اللہ تو سورج الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِى كَفَرَ وَالله کو چڑھاتا ہے مشرق سے پس تو چڑھا اُس کو مغرب سے تو کا فرمبہوت اور حیران رہ گیا اور لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ اللہ سمجھ نہیں دیتا ظالم قوم کو۔اَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ ۲۶۰ - یا جیسا اُس کا حال جو گزرا ایک بستی کی طرف اور وہ گری ہوئی پڑی تھی اپنی چھتوں پر عَلَى عُرُ وَشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِ هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ ج اُس نے کہا اللہ پاک اس نبستی کو کب آباد کرے مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ گا اس کی تباہی کے بعد۔تو مار رکھا اللہ نے اُس کو (بقیه حاشیه) أنا أخي وَأُمِيْتُ۔میں بھی آباد، ویران کرتا ہوں۔انسان کو چاہئے کہ متکلم ومخاطب و قرینہ وموقع محل کا لحاظ رکھ کر بات کرے مثلاً ٹکٹ کا لفظ موقع بموقع مختلف المعنی ہے۔اگر الفاظ کا مفہوم حسب غرض متکلم لیا جاوے تو ہر گز دقت پیش نہ آئے۔دیکھو یہاں ابرا ہیم جیسا جلیل القدر مؤخد کہ رہا ہے که رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِ وَيُمِيتُ نادان امیر مجازی معنی سمجھ رہا ہے۔اس لئے مباحث دانا نے مباحثہ کا رخ بدل دیا اور کہا میرا رب مشرق سے آفتاب چڑھاتا ہے تو مغرب سے چڑھا فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ یعنی کا فرمبہوت ہو گیا۔امام رازی کا ایک لطیفہ۔وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ کہہ دیتا کہ ہمیں تو مشرق سے نکالتے ہیں تو جنوب یا شمال سے پہلے نکال دے تو پھر ہم مغرب سے نکالیں گے تو آگے بات چلتی مگر اللہ نے یوں فرمایا کہ وَاللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِینَ۔یہ حضرت امام کی حُسنِ تعلیل ہے ورنہ اس کو یہ کہہ دینا کافی تھا کہ تمہارے پیدا ہونے سے پہلے بھی ایسا ہوتا تھا تو اس وقت بھی لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ صادق آتا۔فَإِنَّ اللهَ يَأْتِي بِالشَّمس۔اللہ آفتاب کو نکالتا ہے مشرق سے وہ سورج کا پرستار تھا۔خوب دلیل کی کہ ایک تو آفتاب سے سب چیزوں کا وجود مانتے ہو پھر اپنی طرف منسوب کرتے ہو۔آیت نمبر ۲۶۰۔ملاحظہ ہو حز قیل باب ۳۷ توریت۔اسی طرح ایک خواب امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا جو انہوں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کے اعضاء مبارک منتشر ہیں اور تعبیر اس کی تفقہ فی الدین تھی جو اُن سے دنیا میں پھیلی۔