اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 90 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 90

تلك الرسل ٣ البقرة ٢ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى البتہ اس نے مضبوط رسی پکڑ لی جو ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔لَا انفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ ۲۵۸ اللہ انہیں کا دوست دار و حامی ہے جنہوں نے الظُّلُمتِ إِلَى النُّوْرِ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا اے مانا اور وہ انہیں اندھیریوں سے نکال کر اجالے میں لاتا ہے۔اور جولوگ منکر کا فر ہیں ان کے رفیق اوليهمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ حماقی بدچلن شیطان ہیں وہ اُن کافروں کو اُجالے کو النُّورِ إِلَى الظُّلمتِ أُولَيكَ اَصْحَبُ سے اندھیریوں کی طرف لے جاتے ہیں یہی لوگ نیچے آگ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَ إِبْرَهِمَ فِي رَبَّعَ ۲۵۹۔کیا تو نے نہیں معلوم کیا اس شخص کا حال جس نے جھگڑا کیا ابراہیم سے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے اَنْ الهُ اللهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ ابْرُ هِمُ رَبِّ متعلق اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ نے دیا تھا اُس کو غلبہ الَّذِي يُحْيِ وَيُمِيْتُ قَالَ أَنَا أَخي و شاہی جب کہا ابراہیم نے میرا رب وہی ہے جو وَأُمِيتُ قَالَ ابْرُهم فَإِنَّ اللهَ يَأْتِي جلاتا ہے اور مارتا ہے۔اُس نے کہا میں (بھی) (بقیہ حاشیہ) الرشد۔واقعی بات کو پالینا حق معلوم کر لینا انفِصَامَ۔ایک دانت سے دبائیں اور نشان پڑ جائے اس سے بڑھ کر قصم اس سے بڑھ کر قضم۔مطلب یہ کہ اس میں تو قصم بھی نہیں۔آیت نمبر ۲۵۸- يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمتِ۔انہیں اندھیروں سے نکالتا ہے۔ظلمات کئی اقسام کی ہیں جس سے ایک مخلص صاحب دل کو اللہ نکالتا جائے گا بشرطیکہ طالب قاصد ہو نور کی طرف۔اقسام ظلمات والدین کی ظلمت یعنی اُن کے اعتقادات و اعمال و اخلاق خلاف شریعت - استاد - مربی و مرشد بد و ریا کار ہوں پھر دوست بد رسم و بدعت و عادت، بیجا محبت و بغض، بیجا شهوت و حرص، بیجا بخل و بجز وکسل ظلم وستم خلاف سنت و ہدایت قرآنی عمل کرنا تمام ظُلُمَتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ ہیں۔آیت نمبر ۲۵۹ - يُحْ وَہمیت۔آباد و ویران کرتا ہے۔حقیقی معنی نہیں۔موت کے دس سے کچھ اوپر معنی ہیں جوسب کے سب مجازی ہیں۔