اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 970
ومالى ٢٣ ۹۷۰ مت ۳۸ وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالًا كُنَّا ۶۳۔اور دوزخی کہیں گے کیا ہوا ہم نہیں دیکھتے ان لوگوں کو جن کو ہم سمجھتے تھے بُرے لوگوں میں (یعنی نَعُدُّ هُم مِّنَ الْأَشْرَارِة انبیاء اولیاء و متقیوں کو نہیں پاتے دوزخ میں )۔اتَّخَذْ نُهُمْ سِخْرِيَّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ ۶۴۔ہم ان سے ٹھٹھا مخول کیا کرتے تھے کیا ان سے ہماری آنکھیں پھر گئیں ہیں۔الْاَبْصَارُ إِنَّ ذلِكَ لَحَقِّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ ۶۵۔بے شک یہ حق بات ہے یعنی جہنمیوں کا آپس میں لڑنا۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرٌ وَمَا مِنْ اللَّهِ إِلَّا اللهُ ۶۶ - تو کہہ دے میں تو بس ایک ڈرانے والا ہی ہوں اور کوئی بھی سچا معبود نہیں اللہ کے سوا اور وہ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُة اکیلا ہی غالب ہے۔رَبُّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۶۷۔آسمان اور زمین کا رب ہے اور اُن الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ قُلْ هُوَ نَبَوا عَظِيمُن أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ چیزوں کا جو ان کے درمیان ہیں اور وہی بڑا زبر دست مغفرت کرنے والا ہے۔۶۸۔کہہ دے وہ ایک بہت بڑی خبر ہے (یعنی قیامت کا واقعہ یا بُری گھڑی)۔۶۹۔تم تو اس سے منہ پھیرے ہی ہوئے ہو۔مَا كَانَ لِي مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَا الْأَعْلَى ۷٠۔مجھ کو کچھ خبر نہ تھی ( کہ میں آسمان میں منتخب ہو رہا ہوں ) جب اعلیٰ درجہ کے فرشتے اذْ يَخْتَصِمُونَ آپس میں جھگڑتے تھے۔إِنْ يُوحَى إِلَى إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِين - مجھ پر تو بس یہ ہی وحی کی گئی ہے کہ میں بس اے۔کھلم کھلا ڈرانے والا ہی ہوں۔آیت نمبر ۷۰۔مَا كَانَ لِي مِنْ عِلْمٍ مجھ کو کچھ خبر نہ تھی۔نبی کے دل میں نبی بننے کی خواہش نہیں ہوتی وہ مجبوراً اس مقام پر کھڑا کیا جاتا ہے۔وہ ایک نئی دلہن کی طرح حیادار ہوتا ہے مگر اطاعت خداوند کا دلدادہ اور سر بر خط فرماں نہادن مثل کل اور بانسری کے ہوتا ہے۔