اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 967
ومالى ٢٣ حِسَابِ ۹۶۷ کریانہ کر۔مت ۳۸ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَابِ۔اور بے شک اس کے لئے ہمارے یہاں قربت اور اچھا ٹھکانا تھا۔وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّةَ آتِي ۴۲۔اور ہمارے بندے ایوب کا بھی بیان کر مَسَّنِيَ الشَّيْطَنُ بِنُصْبِ وَعَذَابِ کہ جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے سخت شدت کے ساتھ پیاس لگی ہے۔ج أرْكُضُ بِرِجْلِكَ هذَا مُخْتَسَلُ بَارِدُ ۴۳ - اللہ نے فرمایا تیرا پاؤں زمین پر مار یہ ہے نہانے کے لئے چشمہ ٹھنڈا اور پینے کے لئے۔وَشَرَابٌ وَوَهَبْنَا لَةَ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ ۴۴۔اور ہم نے اس کو دیئے اس کے گھر والے رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ اور اتنے ہی اور دیئے اپنی طرف سے مہربانی فرما کر اور یادگارا ہے عقل مندوں کے لئے۔ا وَخُذْ بِيَدِكَ ضِعْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا ۴۵۔اور حکم دیا کہ تو ایک کا ڑیوں کا میٹھا پکڑ آیت نمبر ۴۲ - الشَّيْطنُ الْفَلاتُ ( هل صحرا) ، عطش ( پیاس) - كَذَا فِي الْقَامُوس (قاموس میں یونہی ہے)۔آیت نمبر ۴۳ - أركض - اُرض۔چل یا گھوڑے کو ایٹ مار کر کہ قریب ہی چشمہ ہے۔رسول اللہ ﷺ کو بھی ہجرت کی راہ میں پیاس لگی تھی۔آیت نمبر ۴۵ - ضغثًا۔ضِعت باریک کا ڑیاں۔جیسے حیدر آباد دکن کی جھاڑو کاڑیوں کی اور جن کا ڑیوں کو پنجابی میں تیلیاں اور ہندوستانی گھانس کی کاڑیاں کہتے ہیں اور بار یک قیچیاں اور ایسی کھچیاں جو پتنگ میں لگائی جاتی ہیں۔فَاضْرِبْ به۔پھر اس سے مار۔مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت ایوب جب بیمار ہوئے تو شیطان نے ان کی بیوی سے کہا میں طبیب ہوں تیرے خاوند کو شفا دوں تو تو کہنا کہ میں نے ہی شفا دی ہے۔حضرت ایوب بیوی سے یہ بات سن کر خفا ہوئے اور قسم کھائی کہ میں اچھا ہوں گا تو تجھے سو کوڑے ماروں گا۔خدا نے کوڑوں کی جگہ کاڑیوں کے جھاڑو سے مارنے کا حکم دیا کیونکہ بیوی بڑی خدمت گزار تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین ، تعویذ ، فلیتے کرنے والے عورتوں سے کچھ عہد و منت کرا لیتے ہیں جس سے عورتوں کو خصوصاً اور جاہل مردوں کو عموماً بچنا چاہئے۔