اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 966
ومالى ٢٣ وَالْأَعْنَاقِ ۹۶۶ مت ۳۸ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیر نے لگا۔وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَنَ وَالْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيّه ۳۵۔اور بے شک ہم نے سلیمان کو آزمایا اور جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ اس کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا لے اس واسطے سلیمان ہماری طرف رجوع ہوا۔قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكَالًا ۳۶۔اور دعا کی اے میرے ربّ! مجھے پناہ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِى إِنَّكَ أَنْتَ دے، میری حفاظت کر اور مجھے ایسا ملک عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ پہنچے، کچھ شک نہیں کہ تو الْوَهَّابُ بہت ہی دینے والا ہے۔فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِ رُخَاءِ ۳۷۔پھر ہم نے اس کے تابع کر دی قوت اور اقبال کی ہوا کہ وہ اس کے حکم سے جہاں چاہتا نرم نرم اور آہستہ چلتی۔حَيْثُ أَصَابَ وَالشَّيطِيْنَ كُلَّ بَنَاءِ وَغَوَّاصِ ۳۸۔اور شیاطین کو تابع کر دیا عمارتیں بنانے والے غوطہ لگانے والے سے وَاخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْأَصْفَادِ ۳۹۔اور دوسرے شیاطین جکڑے ہوئے بیٹریوں میں اس کے تابع تھے جو شرارت کرتے تو بندھے رہتے )۔هذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَيْرِ ۴۰۔یہ ہماری بے حساب عطا ہے پس تو احسان 1 یعنی جس میں دین داری کی روح نہ تھی اس کا قائم مقام اس کا بیٹا ہوا جو بد چلن تھا۔وم یعنی قوم عمالقی جنیاں کو اس کا تابع کر دیا۔آیت نمبر ۳۶ - لَا يَنْبَغِي لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِى - میرے بعد پھر کسی کو نہ دیجیو۔(بڑی تکلیف ذمہ واری کی چیز ہے) چونکہ حضرت سلیمان نے اپنا جانشین بہت نالائق دیکھا تو انہوں نے دنیوی سلطنت سے نفرت کی اور سلطنت آخرت کے لئے دعا مانگی خدا نے ان کو دونوں عنایت فرمائیں۔اکثر جو حکومت مانگتے ہیں ان کو نہیں ملتی ہے مانگے ہی بشرط لیاقت دی جاتی ہے۔صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی دنیوی اسباب طلب نہیں کئے مگر خدا نے انہیں سلطنت ظاہری بھی دی۔آیت نمبر ۴۰۔فَامْنُنْ أو أمسك - احسان کریا نہ کر ، یہ حضرت سلیمان کو حکم ہے کہ ان شریروں کو زنجیروں میں بندھے رہنے دو یا احسان کر کے چھوڑ دو تم سے کچھ پوچھ پاچھ نہ ہوگی۔