اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 963 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 963

ومالى ٢٣ ۹۶۳ مت ۳۸ لَا تَخَفْ خَصْمَن بَغَى بَعْضُنَا عَلَى گھبراتے ہیں کیوں چوکنا ہوتے ہیں ہم تو دو بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطط وَاهْدِنَا إِلَى سَوَاءِ الصِرَاطِ دشمن ہیں زیادتی کرتے ہیں ہم ایک دوسرے پر تو آپ حق حق فیصلہ کر دیجیئے اور تا خیر نہ ڈالئے اور ہمیں سیدھا راستہ بتا دیجیئے۔إِنَّ هَذَا أَخِي لَهُ تِسْع وَتِسْعُونَ نَعْجَةً ۲۴ یہ میرا بھائی ہے۔اس کی ننانوے دنبیاں ہیں وَلِى نَعْجَةً وَاحِدَةٌ فَقَالَ اَكْفِلْنِيهَا اور میری ایک دُنبی ہے اور یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالہ کر دے اور سختی کرتا ہے بات چیت میں۔وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلى ۲۵ - داؤد نے فرمایا کہ بے شک اس نے تجھ پر ظلم کیا ہے وہ جودُ نبی مانگتا ہے اپنی دُنبیوں میں نِعَاجِه وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِى ملانے کو۔اور بہت سے ساتھی ایسے ہی ہوتے بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا ہیں کہ بعض پر بعض زیادتی کرتے رہتے ہیں مگر وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَقَلِيلٌ قَاهُمْ وَظَنَّ ہاں جنہوں نے اللہ کو مانا اور بھلے کام کئے (وہ ایسا نہیں کرتے ) اور ایسے تو تھوڑے ہی ہیں اور دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَتْهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ داؤد نے خیال کیا کہ ہم نے اُس کو آزمایا ہے تو اس نے حفاظت مانگی اپنے رب سے اور وہ رَاكِعًا وَ أَنَابَة تو بہ کرتا ہو اسجدہ میں گر پڑا۔(بقیہ حاشیہ) کرتے ہیں جو مذموم ہے۔دوسرے وہ جو ثابت قدم انسان استعمال کرتے ہیں۔وہ نوکروں کو للکارنا، اسباب کا درست کرنا ، خدا کی طرف رجوع کرنا یہ خشوع و خضوع ہے۔خَصْمَنِ۔ہم دو دشمن ہیں۔بعض مترجموں اور مفسروں نے جو یہاں فرشتوں سے مراد لی ہے وہ محض غلط ہے کیونکہ وہ مشہور قصہ جس میں حضرت داؤد علیہ السلام پر سخت حملہ کیا گیا ہے سرے ہی سے غلط ہے۔دیکھو تفسیر کبیر (اس سے مراد امام فخر الدین رازی کی تفسیر ہے ) اور حضرت علی نے فرمایا کہ جو کوئی داؤد کا جھوٹا قصہ بیان کرے گا ہم اس کو ۱۶۰ کوڑے ماریں گے۔آیت نمبر ۲۵۔فتنہ۔ہم نے اس کو آزمایا ہے۔یعنی وہ دو دشمن خلاف وقت عدالت اس کے پاس اگر چہ کسی اور غرض سے آئے تھے مگر مقدمہ کی صورت میں رجوع ہونے اور حضرت داؤد نے کار رسالت یعنی دادرسی توفیق الہی سے اسی وقت کی اور حقوق نفس کو حقوق اللہ سے پیچھے کر دیا اور اس بات کی حفاظت اور توفیق طلبی کے لئے سجدہ کرتے ہوئے دعا کی۔