اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 959 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 959

ومالى ٢٣ ۹۵۹ مت ۳۸ سُوْرَةُ ص مَكَّيَّةٌ وَهِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ تِسْعٌ وَّ ثَمَانُونَ آيَةٌ وَّ خَمْسَةُ رُكُوعَاتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورۂ حق کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِة فِي کے اسم شریف سے جو رحمن و رحیم ہے۔۔ہم ایک صادق کا ذکر کرتے ہیں اور قسم ہے نصیحت کرنے والے قرآن کی۔بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ ۳۔ہاں جن لوگوں نے انکار کیا، حق کو چھپایا وہ ہیکڑی اور سخت اختلاف میں پڑے ہیں۔تمهید - صدق و صادق۔تین علم عبرت وخبرت کے لئے لکھے ہیں (۱) علم تاریخ۔اہل اسلام نے بہت کچھ لکھا۔اور ان میں اور عیسائیوں میں یہ فرق ہے کہ عیسائی واقعہ کے ساتھ سبب بھی لکھتے ہیں گو اصلی نہ ہو۔پھر اپنے ملک کے حالات پر قیاس کرتے ہیں اور اپنی ملکی فضیلت کا لحاظ رکھتے ہیں۔ہمارے مؤرخ زیادہ تر شیعہ ہیں اور ان کو تقیہ کی خوب مشق ہے اور تبرے کے عادی - تبرے کی عادت سیکھنی ہو تو ان سے سیکھیے۔وقائع نعمت خان و خافی خان اور ان کے ہجا و تبرا کہنہ مشقی کی یادگار ہیں۔ایسا مؤرخ سنیوں کی خوب خبر لیتا ہے۔اسلامی تاریخ کا دوسرا حصہ جو بہت نیک حصہ ہے وہ علم حدیث میں حَدَّثَنَا عَنْ مَالِكٍ وغیرہ ہے مگر اب تو صرف عَنْ رَسُولِ اللہ سے یاد کر لیتے ہیں اور پڑھ لیتے ہیں گو مدعا عَنْ فُلَانٍ، عَنْ فُلَانٍ سے ان کی پر ہیز گاری اور تقویٰ اور پاک نمونوں کا علم بھی تھا جو سلسلہ اسناد میں آجاتا تھا مگر کمی فرصت نے اس کو چھڑایا۔تیسری بات کلام پاک رحمن ہے۔قرآن کریم میں بہت سے انبیاء کا ذکر موجود ہے۔بے فائدہ جھگڑے اور غلط قصے جولوگوں نے تفسیروں میں درج کر دیئے ہیں جس کو نہ حدیث مرفوع متصل نہ اصول عقائد سنت و جماعت نہ عام آیات محکمات قرآنِ مجید مصدق و مبین ہیں چھوڑ دیا جائے۔پھر جس قدر قرآن کریم نے باتیں بتائی ہیں اور خوبی کے طور پر بیان کی ہیں وہ سب واجب العمل قابل قبول و صدق صادق مصدوق ہیں مثلاً جھگڑا کرنے والے کہتے ہیں کہ عشق وحسن خدا کو بھی پسند ہے ثبوت سورہ یوسف موجود ہے۔کوئی کہتا ہے کہ کیا حضرت آدم لقمان نہیں تھے اسی طرح حضرت داؤد علیہ السلام پر اتہام، ابراہیم علیہ السلام پر کذب کا بہتان، یونس علیہ السلام پر نعوذ باللہ خدا سے ناراض ہونے کا اتہام اور زہرہ ومشتری والے ہاروت و ماروت کے کذائی قصے۔مسلمان بیانات قرآنی کے معیار پر تاریخ کا سلسلہ رکھتے تو بیان کی بے وقعتی نہ ہوتی۔آیت نمبر ۲۔ص۔ص اللہ تعالیٰ کا اسم شریف ہے۔