اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 955
ومالى ٢٣ فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيم م ۹۵۵ الصفت ٣٧ ۱۴۳۔پھر مچھلی نے اس کا لقمہ کر لیا اور وہ (اپنے آپ پر ) ملامت کرنے لگا۔فَلَوْلَا أَنه كَانَ مِنَ الْمُسَبْعِينَ ۱۴۴۔تو وہ اگر تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا۔لَلَبِثَ فِي بَطْنِةٍ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۱۴۵۔تو وہ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتا اس دن تک کہ لوگ مرے بعد جی کر اٹھیں گے۔فَنَبَذْنَهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيْمُ ۱۴۶۔پھر ہم نے اس کو کھلے میدان میں پھینک دیا اور اس کا بُرا حال تھا۔وَانْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةٌ مِّنْ يَقْطِينٍ ۱۴۷۔اور اس کے لئے تربوز یا لکڑی وغیرہ کی بیل اُگادی۔وَأَرْسَلْنَهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفِ أَوْ يَزِيدُونَ ۱۴۸۔اور اُس کو ایک لاکھ اور زیادہ کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔فَأَمَنُوْا فَمَتَعْنُهُمْ إِلَى حِينٍ ۱۴۹۔تو وہ سب ایمان لائے پھر ان کو ہم نے جے تک فائدہ اٹھانے دیا۔فَاسْتَفْتِهِمُ الرَبَّكَ الْبَنَاتُ وَلَهُمُ ۱۵۰۔پھر اُن سے یہ پوچھ کہ تیرے ربّ کے واسطے تو بیٹیاں اور ان کے واسطے بیٹے ہوں۔الْبَنُونَ ا یعنی ان کا حشر مچھلی کے پیٹ سے ہوتا۔آیت نمبر ۱۴۳- هلیم۔(وہ اپنے آپ پر ) ملامت کرنے لگا اس طرح لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَنَكَ اِنّى كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِینَ (الانبیاء : ۸۸) یہاں کسی گناہ کی معافی نہیں مانگی جس سے ظالم کے مشہور معنے سمجھے جائیں۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا مصائب دور کرنے کے لئے ہے تو ظالم کے معنے یہاں مصائب کے نیچے دبے ہوئے کے ہیں اس کا تفصیلی حال سورۃ الانبیاء نمبر 40 پر ( ملاحظہ کریں)۔سورہ انبیاء کی شرح یونس ذوالنون میں دیکھو۔آیت نمبر ۱۴۵ - إلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ۔جس دن مُردے جی کر قیامت میں اٹھیں۔یعنی مچھلی کے پیٹ سے اس کا نکلنا ناممکن تھا۔جیسے کہا جاتا ہے کہ یہ کام تم قیامت تک بھی کرتے رہو تو نہ ہوگا۔یہ مقصد نہیں کہ مچھلی قیامت تک زندہ رہے گی اور وہ بھی اس کے پیٹ میں ہی پڑا رہے گا۔آیت نمبر ۱۴۸ - مِائَةِ أَلْفِ اَوْ يَزِيدُونَ۔ایک لاکھ اور زیادہ کی طرف۔او بمعنی اور۔بالغ ہوں تو لاکھ بچے بھی لیں تو زیادہ یعنی ایک لاکھ میں ہزار۔ایسے ہی کتاب یوناہ باب ۴ آیت اا سے ظاہر ہے۔