اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 951
ومالي ۲۳ ۹۵۱ الصفت ٣٧ مَا ذَا تَرى قَالَ يَابَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ذبح کر رہا ہوں تو تو سوچ لے کہ تیری کیا رائے ہے۔اس نے کہا اے میرے باپ ! تجھے جو حکم دیا سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصُّبِرِينَ گیا ہے وہ تو کر گزر۔قریب ہی تو مجھ کو پائے گا انشاء اللہ نیکیوں پر جمے رہنے والے اور بدیوں سے بچنے والوں میں سے۔فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينة ۱۰۴۔پھر جب دونوں تعمیل حکم پر آمادہ ہوئے اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل پچھاڑا۔وَنَادَيْنَهُ أَنْ يَا بْرُ هِيمُن ۱۰۵۔اور ہم نے اس کو زور سے پکارا اے ابراہیم ! قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِى ۱۰۶۔تو نے اپنا رو یا سچا کر دکھایا (اور تو صدیق اور خلیل ہو گیا) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں محسنوں کو۔الْمُحْسِنِينَ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلْوُا الْمُبِينُ ۱۰۷۔بے شک یہ تو کھلا کھلا انعام ہے۔وَفَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمِ ۱۰۸۔اور ہم نے اس کو ذبح عظیم کے بدلے چھڑالیا۔(بقیہ حاشیہ ) مطلب بہت سی قومیں نہیں سمجھیں آگے اب آئندہ کے لئے تم عمل کر کے خواب کی تعبیر کا علم ظاہر کرو اور اس طرح اس رسم یعنی قتل انسانی کا قلع قمع بھی کرو۔آیت نمبر ۱۰۶ - صَدَّقْتَ الرویا۔تو نے اپنا ر و یا سچا کر دکھایا یعنی حقیقت میں خواب کی تعبیر بھی نہ کی بلکہ بیٹے کو ذبح کرنے بیٹھ گیا۔آیت نمبر ۱۰۸ - بِذِبْحٍ عَظِیمٍ - ذبح عظیم کے بدلے چھڑا لیا۔یعنی ابراہیم کی قربانی عظیم الشان تھی کیونکہ سو برس کی عمر اور جوان بیٹا۔آئندہ امید نہیں۔گویا مال، دولت، عزت، نام، جان سب ہی اللہ پر قربان کر چکا۔یہ حضرت اسماعیل کے متعلق ہے جس کے بدلے اور یادگار سے خدا نے یہ قربانی میں قیامت تک جاری فرما رکھی ہیں اور اس میں اختلاف ہے کہ جس کے عوض میں فدیہ دیا گیا وہ کون سا فرزند ہے، اسمعیل ہے یا اسحق ؟ احادیث صحیحہ میں تو اس کا کچھ ذکر نہیں حضرت عمر و علی و عباس و ابن مسعود اور کعب اور قتادہ اور سعید ابن جبیر اور مسروق اور عکرمہ اور ظہری شدی اور مقاتل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اسحق علیہ السلام کے ذبیح کا حکم ہوا تھا۔یہودی اور نصاریٰ اور ایران والوں کا بھی یہی مذہب ہے اور توریت سفر پیدائش کے ۲۲ باب میں بھی یہی ہے اور ابن عباس اور ابن عمر اور سعید بن المصیب اور حسن بصری