اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 950 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 950

ومالى ٢٣ ۹۵۰ الصفت ۳۷ قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَالْقَوْهُ فِي ۹۸۔وہ بولے کہ ابراہیم کے لئے ایک بڑی چتا بناؤ پھر اس کو آگ کے ڈھیر میں ڈال دو۔الْجَحِيمِ فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَهُمُ الْأَسْفَلِينَ ۹۹۔پس انہوں نے اس کے ساتھ ایک داؤ کرنا چاہا تو ہم نے انہیں کو نیچا دکھا دیا۔وَقَالَ إِنِّي ذَاهِب إِلى رَبِّي سَيَهْدِينِ ١٠٠۔اور ابراہیم نے کہا میں تو اپنے ربّ کی ۱۰۰۔طرف جانے والا ہوں وہ قریب ہی مجھے راہ دکھا دے گا۔رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّلِحِينَ ۱۰۱۔اے میرے رب مجھے ایک نیک اولا د عطا فرما۔فَبَشِّرْتُهُ بِخُلْمٍ حَلِيمٍ ۱۰۲۔پس ہم نے اس کو ایک عقل والے لڑکے کی بشارت دی۔فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعَى قَالَ يُبْنَى إِنِّي ۱۰۳۔پھر جب وہ اس کے ساتھ دوڑنے کے أرى فِي الْمَنَامِ انّى اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ قابل ہوا تو ابراہیم نے کہا اے میرے پیارے بیٹے ! میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ تجھ کو (بقیہ حاشیہ ) کام کرتے ہو اور نافیہ کی صورت میں یہ ہوگا کہ اللہ نے اندازہ کیا تمہارا اور تم نہیں کرتے یعنی انسان ہو کر انسانیت کے کام نہیں کرتے یا بمعنی الَّذِی موصولہ ہے یعنی اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور جن بتوں وغیرہ کو تم پوجتے ہو ان کو بھی۔آیت نمبر ۱۰۲ - بِخُلهِ حَلِیهِ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چھیاسی برس کی عمر میں حضرت ہاجرہ مصری کے بطن سے حضرت اسماعیل پیدا ہوئے جن کی نسبت توریت سفر پیدائش باب ۱۶ آیت ۱۵ میں مذکور ہے۔آیت نمبر ۱۰۳ - اتى آرى فِي الْمَنَامِ الْمَنَامِ ، اَلْعَيْن۔میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔رویا میں بیٹے کو ذبح کرتے دیکھنا گبش کی قربانی سے مراد ہے اور قربانی کا سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصُّبِرِينَ (الصفت: ۱۰۳) کہنا۔مشیت ایزدی کی رضا مندی اضحیاء سے ثابت اور ظاہر ہے اور فَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (الصفت: ۱۰۸) ذبح عظیم سے بعض مفسرین نے کہا موٹا تازہ بڑا قیمتی دنبہ اور بعض نے کہا بڑی سخت قربانی جو ذبح ولد ہے۔سیریا کے ملک اور بعض ہندوؤں کے ملک حتی کہ حضرت عیسیٰ کے قتل صلیبی اور اعتقاد کفارہ اور شیعوں کی روایت میں کفارہ حسین برائے شفاعت امت وغیرہ وغیرہ امور اس رسم کے شاہد ہیں۔ابراہیم علیہ السلام کو تفہیم ہوئی کہ بیٹے کی جگہ بکرا ذبح کرو اور سمجھایا گیا کہ اس رؤیا کا