اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 949 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 949

ومالى ٢٣ فَمَا ظُنُّكُمْ بِرَبِّ الْعَلَمِينَ فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُوْمِ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمُ فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِيْنَ ۹۴۹ الصفت ۳۷ ۸۔بس کیا گمان ہے تمہارا رب العالمین پر۔۸۹۔پھر اس نے ستاروں میں خاص نظر سے دیکھا۔۹۰۔پھر کہا میں بہت بیمار ہوں۔۹۱۔پھر وہ اس سے پیٹھ پھیر کر چلے گئے۔فَرَاغَ إِلَى الِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ ۹۲۔پھر وہ ان کے معبودوں کی طرف جا گھسا مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْ با بِالْيَمِينِ فَاقْبَلُوا إِلَيْهِ يَزِقُوْنَ قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ اور کہا تم کیوں نہیں کھاتے۔۹۳ تمہیں کیا ہوا کہ تم بات نہیں کرتے۔۹۴۔بس پھر سیدھے ہاتھ سے انہیں چوٹیں مارنے لگا۔۹۵۔پس لوگ دوڑتے ہوئے آئے اُس کی طرف۔۹۶۔ابراہیم بولا کیا تم جو چیز خود تراشتے ہو اُسی کی پوجا کرتے ہو۔۹۷۔اور اللہ نے تم کو پیدا کیا اور یہ تم کیا کرتے ہو یا اللہ نے تم کو پیدا کیا اور ان پتھروں یا تاروں کو جن کی تم پوجا کرتے ہو۔آیت نمبر ۸۸ - فَمَا ظَنُّكُمْ۔کیا گمان ہے تمہارا رب العالمین پر۔خدا پر بدظنی کا نتیجہ گناہ ہے مثلاً چور رزاقیت و حلال روزی ملنے سے نا اُمید ہوتا ہے اور زانی حلال و پاکیزہ عورت کے ملنے سے وغیرہ وغیرہ۔آیت نمبر ۸۹- نَظرَةً - خاص نظر سے دیکھا۔نَظَرَ فِي النُّجُومِ : فَكَرَ فِي الشَّيْءِ يُدَبِّرُهُ - نجوم، اوقات ، گھڑی، رخصت کرنے کا ایک قاعدہ گھڑی کو دیکھنا وغیرہ۔آیت نمبر ۹۰ - اتى سقیم۔میں بہت بیمار ہوں۔نبی جس کی نسبت قرآن میں ارشاد ہے صِدِّيقًا نَبِيًّا او تاروں کو دیکھ رہے ہیں اور کسی مرض میں مبتلا اور اس کی شدت کے خیال سے اپنی زبان مبارک سے فرما رہے ہیں انی سقیم۔لوگ سیاہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ انہوں نے جھوٹ کہا۔آیت نمبر ۹۵ - يَرْفُونَ۔یعنی بُت پرست دوڑے۔آیت نمبر ۹۷ - وَمَا تَعْمَلُونَ۔اور یہ تم کیا کرتے ہو۔یہاں کا استفہام تو یخ کے لئے ہے یا نافیہ ہے۔استفہام توبیخ کی مثال ارشاد اَحْسَنِ تَقویم پر نظر رکھ کر۔یعنی خدا نے تم کو احسن تقویم بنایا اور یہ تم کیسے نکھے