اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 941 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 941

ومالى ٢٣ ۹۴۱ الصفت ۳۷ رَبُّ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ٦ - وہ رب ہے آسمان اور زمین کا اور جو کچھ ان۔دونوں میں ہے اور وہ مشرقوں کا رب ہے۔وَرَبُّ الْمَشَارِقِ ة إِنَّا زَيَّنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةِ۔ہم نے سامنے والے آسمان کو آراستہ کیا ہے ستاروں کی زینت سے۔الْكَوَاكِبِ وَحِفْظًا مِنْ كُلِّ شَيْطَنٍ مَّارِدٍة ۸۔اور محفوظ رکھا ہے شیاطین اور نجم سے۔لَا يَسمَّعُونَ إِلَى الْمَلَا الْأَعْلَى ۹۔( جو اطاعت سے خارج ہیں) وہ کان وَيُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبِ نہیں لگا سکتے بڑی مجلس کی طرف اور پھینکے جاتے ہیں ہر طرف سے۔دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ ) ۱۰۔پڑتی ہیں دھتکاریں (ان پر ) اور ان کے لئے عذاب ہے ہمیشہ کا۔إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَه - کوئی جھپٹے کسی امر کے دریافت کرنے کے لئے تو چمکتا ہوا شہاب اس کے پیچھے پڑتا ہے۔شِهَابٌ ثَاقِب آیت نمبر ۶۔رَبُّ الْمَشَارِقِ۔ایک سواتی مشرقیں ہیں اور روزانہ سال شمسی کے اعتبار سے تین سو پینسٹھ اور ہر ذرہ بھی مشرق ہے۔مد مقابل کو چھوڑ دیا جاتا ہے یعنی مغارب وہ بھی اسی طرح پر ہیں۔آیت نمبر ۸۔مَارِدِ۔کا ہن۔تیلی۔راجہ۔جوتشی وغیرہ۔آیت نمبر 11 - شِهَابٌ ثَاقِب۔چمکتا ہوا تارہ۔یعنی جھوٹے نجومی ستاروں کے نام سے پیشگوئی کر کے لوگوں کو ٹھگتے پھرتے ہیں۔آسمان کو محفوظ کیا ہے اور وہ آسمانی باتیں نہیں سنتے اور ہر طرف سے ان پر دھتکاریں پڑتی ہیں دین دنیا میں مگر یہ بے حیا پھر بھی چوطرف پھرتے رہتے ہیں اور ان کے پیچھے شہاب ثاقب ہے۔ایک تو وہی عام تارے جو رات کو گرتے ہیں جس کو نجومی منحوس سمجھتے ہیں۔باریک بات یہ ہے کہ جب کسی ستارے کی چال سے کوئی بات بنانا چاہتے ہیں تو اس کو باطل کرنے والے ستارے کی چال آپڑتی ہے اور ایک ریکھا کی منطل دوسری ریکھا موجود ہو جاتی ہے۔یہی شہاب ثاقب ہے جو ان کی انکلوں پر پڑتا ہے۔اسی سبب سے نجومی ، جب بات جھوٹی ہوتی دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ فلاں تارے کی حرکت یا ریکھا بھی دکھی تھی۔نجوم کا علم جہاں تک علمی قواعد پر مبنی ہے وہ بالکل صحیح ہے اور جہاں انکل بازی اور غیب گوئی پر ہے وہ محض غلط در غلط ، غلط اور عند الشرع مذموم، مقبوح و ممنوع ہے۔