اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 937
ومالى ٢٣ ۹۳۷ يس ٣٦ وَمَنْ تُعَمِّرُهُ نُنَكِّسُهُ فِي الْخَلقِ اَفَلَا ۲۹۔اور جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں تو اس کو اوندھا کر دیتے ہیں خلقت میں۔تو پھر کیا وہ يَعْقِلُونَ سمجھتے ہی نہیں۔وَمَا عَلَّمْنَهُ الشَّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَه ۷۰۔اور ہم نے اس رسول کو شعر کہنا نہیں سکھایا اِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ اور اس کو یہ زیب بھی نہیں ہے۔یہ تو صرف ایک نصیحت اور صاف کھلی کھلی ہر وقت پڑھنے کی ایک چیز ہے۔لِيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيَّا وَ يَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى --- نتیجہ یہ کہ اس کلام سے اس کو ڈرائے جو الْكَفِرِينَ یعنی قتل و عذاب کی فرد قرار داد جرم لگ چکی ہے۔جان رکھتا ہو (معلوم ہوا کہ کافر مردے ہیں کیونکہ ) ثابت ہو چکی ہے بات کافروں پر۔آیت نمبر ۲۹ - وَمَنْ نُعَمِّرُہ۔اور جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں۔علاوہ بحیثیت شخصیت یہ حیثیات بھی ہیں بحیثیت قومیت یا بحیثیت سلطنت یا بحیثیت عظمت۔تنكسة۔اس کو اوندھا کر دیتے ہیں۔یعنی وہ بچوں کی طرح بالکل ضعیف و نا تواں ہو کر گھٹنوں چلنے لگتا ہے۔کم عقل ہو جاتا ہے۔أَفَلَا يَعْقِلُونَ۔تو پھر کیا وہ سمجھتے نہیں کہ پرانے بوڑھوں کی عقل کا بھی اعتبار نہیں۔اگر وہ جہالت میں بس گئے ہوں اصلی بات نہ سمجھتے ہوں تو نوجوان کا کیا اعتبار۔آیت نمبر ۷۰ - الشعر - کلام موزوں جو قصداً لکھا گیا ہو۔یہاں شعر سے مراد ایسی باتیں ہیں جن کا حقائق کے ساتھ کچھ دخل نہیں لیکن وہ نفس پر بہت اثر کرتی ہیں۔جیسا کہ شاعر لوگ تشبیہات سے ایک چیز کو محبوب یا مبغوض بنا دیتے ہیں حالانکہ اس کی حقیقت پر ان دونوں باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔كَمَا قَالَ الْحَرِيرِى فِي وَصْفِ الدُّنْيَا بَعْدَ مَا مَدَحَهُ تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے ایسے کلام کی نفی کی ہے کیونکہ حضور علیہ السلام کے دعاوی دلائل عقلیہ حکمیہ سے ثابت ہیں۔آپ کو ایسی باتوں کے لینے کی ضرورت نہیں اور نہ ایسا ضعیف پہلو آپ کی شان کے شایان ہے کیونکہ وجوہات شعر یہ مختلف مذاق اور عادات اور ملک اور قوموں کے لحاظ سے بدل جاتے ہیں اور آپ کی ذات گرامی رحمۃ للعالمین ہے۔قرآن۔ہر وقت پڑھنے کی چیز یعنی قرآن شریف جو مشتق ہے قُرآنًا بَعْدَ آنِ سے۔