اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 87 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 87

تلك الرسل ٣ ۸۷ البقرة ٢ تِلْكَ أَيتُ اللهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۲۵۳۔یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تجھ پر پڑھتے ہیں حق اور کچی ( اور ان آیتوں سے ثابت ہوتا وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ ہے کہ) بے شک بے شک تو رسول ہے۔تِلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلى ۲۵۴۔یہ سب رسول ہیں ان میں سے ہم نے بَعْضٍ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللهُ وَرَفَعَ بعض کو بعض پر بزرگی دی اُن میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ ان سے اللہ نے باتیں کیں اور بعض کے بَعْضَهُمْ دَرَجُتٍ وَأَتَيْنَا عِيسَى ابْنَ درجے بلند کئے اور مریم کے بیٹے عیسی کو ہم نے کھلے مَرْيَمَ الْبَيْتِ وَأَيَّدْنُهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ھلے نشان دیئے اور اس کی تائید کی پاک کلام سے آیت نمبر ۴ ۲۵۔فَضَّلْنَا۔ہم نے فضیلت دی باعتبار تعلقات روحانی وخدمات دینی کے۔فضیلت کا علم اللہ ہی کو ہے ، مگر تفریق فی النبوة جائز نہیں چھوٹا نبی ہو یا بڑا جیسا کہ ارشاد ہے لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ منْ رُّسُلِم تفریق اور تفضیل علیحدہ علیحدہ امر ہیں۔نبوت اور رسالت ایک عہدہ کا نام ہے مثلاً بحیثیت ملا زمت سرکاری ایک چپراسی سے لے کر صدر المہام اور مدارالمہام تک ملازم کہلا سکتے ہیں اور ہر ایک کو باعتبار ملازمت، ملازم سرکار کہہ سکتے ہیں مگر باعتبار درجوں اور فضائل کے الگ الگ ہیں کیونکہ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ موجود ہے اسی طرح انبیاء ورسل باعتبار عہدہ نبوت ورسالت کے بلاتفریق خدا کے نبی ورسول مانے جائیں اور باعتبار فضیلت کے الگ الگ۔مَنْ كَلَّمَ اللهُ - بعض سے اللہ نے بات کی۔فقیر کا خیال ہے کہ کلام سے مراد وہ کلام ہے جو مشتمل بر شریعت جدیدہ ہو ورنہ کوئی ایسا رسول نہیں جس سے خدا نے کلام نہ کیا ہو ہاں بعض سے کلام اس لئے ہوا کہ وہ دنیا میں نئی شریعت جاری کریں اور بعض سے اس لئے ہے کہ ان کے درجات کی ترقی ہو ان کی عزت دنیا میں ظاہر ہو۔نبیوں کی تین قسمیں ہیں ایک شریعت لانے والے اور ایک شریعت کے مؤید اور تیسرا اور ایک نبی ہے جو امتی نبی کہلاتا ہے اور وہ آنحضرت ﷺ کا کامل بروز ہے۔جس کو اکثر علماء اس آیت کا مصداق بتلاتے ہیں لِيُظْهِرَهُ عَلَى الذِيْنِ كُلِم (الصف: ۱۰) سوره صف رکوع اول اور وَأُخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: ) ) رکوع اوّل۔اس میں حضور کی بعثت ثانی کا ذکر ہے۔عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ۔یہ سورۃ مدنی ہے یہود کے خلاف فضیلت مسیح علیہ السلام کا اظہار بر موقع ہے اور نصاری کے لئے ہمارے مقابلہ میں موجب فخر نہیں۔