اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 932
ومالي ۲۳ ۹۳۲ یست ٦ مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ہر چیز کے جوڑے جوڑے اس قسم میں سے جو زمین اگاتی ہے اور خود ان کی ذات میں سے اور وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ ان چیزوں میں سے جن کو وہ جانتے ہی نہیں۔وَايَةٌ لَهُمُ الَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا ۳۸۔اور ایک نشان ( پتہ ) ان کے لئے رات ہے ہم اس سے بھینچ لیتے ہیں دن کو تو وہ دفعتاً هُم مُّظْلِمُونَ ) اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔وَالشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَرٍ لَهَا ذَلِكَ ۳۹۔اور آفتاب بہ رہا، چل رہا ہے اپنی قرارگاہ پر۔یہ زبردست علیم کے اندازے باندھے تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِن ہوئے ہیں۔وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ ۴۰۔اور چاند کی ہم نے مقرر کر دی ہیں منزلیں یہاں تک کہ پلٹ آیا جیسی پرانی ڈالی۔كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ ۴۱ - نہ تو سورج ہی سے یہ ہوسکتا ہے کہ وہ چاند کو الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ آ پکڑے اور نہ رات ہی دن سے آگے بڑھ سکتی ہے اور وہ سب آسمانوں میں تیر رہے ہیں۔فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ وَايَةٌ لَهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ ۴۲۔اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے اٹھا لیا ان کی ذریت کو بھری ہوئی کشتی میں۔الْمَشْحُونِ آیت نمبر ۳۹۔لِمُسْتَقَرِلْهَا۔اپنی قرار گاہ اور محور پر۔لام بمعنے فِی یا الہی کے ہے۔فٹی کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ اپنے محور پر چل رہا ہے اور السی کے معنے دو ہو سکتے ہیں (۱) کسی طرف کو تمام نظام کے ساتھ جارہا ہے۔(۲) کسی وقت تک چل رہا ہے۔آیت نمبر ۴۰۔كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ - پرانی ڈالی۔یعنی پھر پھر کر پرانی کھجور کی شاخ کے مانند ہو جاتا ہے۔یہاں قدیم کا لفظ جو آیا ہے اس کے معنے ایسے پرانے کے نہیں ہیں جس کی ابتدا نہ ہو اس لئے قرآن اور حدیث اور اقوال صحابہ اور آئمہ خدا کی ذات پر یہ لفظ کہیں نہیں بولا گیا۔عقائد والوں نے پیچھے سے یہ لفظ ملایا ہے جب سے عرض اور جوهر وغیرہ کی بحث عقائد میں شروع ہوئی۔آیت نمبر ۴۲ - اَلْفُلْكِ الْمَشْحُونِ۔بھری ہوئی کشتی۔ہم ان کی اولا د کو جہازوں پر سوار کر کے فاتح بنا ئیں گے۔آنحضور اُم سُلیم کے گھر سورہے تھے اٹھے تو مسکراتے اٹھے۔انہوں نے وجہ پوچھی ارشاد ہوا کہ میری