اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 922
ومن يقنت ٢٢ ۹۲۲ فاطره مقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے لے کوئی ان میں الله ذلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُة سے بیچ کی چال چل رہا ہے اور ان میں سے کوئی نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں اللہ کے حکم سے۔یہی تو بہت بڑا فضل ہے۔جَنُّتُ عَدْنٍ يَدْخُلُوْنَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ ۳۴۔ہمیشہ کے باغ ہیں جن میں وہ رہیں أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَ لُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ گے۔وہاں انہیں سونے کے اور موتی کے کڑے پہنائے جائیں گے یاد ئیے جائیں گے اور فِيهَا حَرِيرُ وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی اَذْهَبَ عَنَّا ۳۵۔اور وہ کہیں گے سب واہ واہ اور بڑائیاں اللہ ہی کی ہیں جس نے ہم سے دور کر دیا غم ، بے شک الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ ہمارا رب عیب پوش بخشنده قدردان ہے۔E الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ ٣٦ - جس نے ہم کو اتارا سدا رہنے کے گھر میں ۳۶۔صوفی متوسط عین الیقین والا۔مبتدی یا منتہی صوفی علم یقین والا۔ے صوفی صاحب نفس مطمئنہ حق الیقین والے جن میں خودی باقی نہیں رہی۔ہ صحابہ کے لئے پیش گوئی ہے۔(بقیہ حاشیہ) سابق بِالْخَيْرَاتِ بِاِذْنِ اللهِ - علماء صوفی صاحب نفس مطمئنہ حق الیقین والے جن میں خودی باقی نہیں رہی عرفان اور عبودیت کے اعلیٰ درجہ کو پہنچ گئے ہیں۔آیت نمبر ۳۶۔دَارَ الْمُقَامَةِ - آیا نجات عمل سے ہے یا فضل سے۔اس آیت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نجات فضل سے ہے مگر سورہ اعراف رکوع ۵ اور زخرف رکوع ۷ میں یوں فرمایا ہے وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِى أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (الزخرف:۷۳) کہ یہ جنت عمل کا بدلہ ہے۔اس کی تطبیق یوں ہے کہ عمل فضل کا جاذب ہے۔نجات فضل سے ہے اور وہ عمل سے ملتا ہے۔دوسری یہ بات کہ مولیٰ پاک کے قول میں یہ ہے کہ ہم کو جنت فضل سے ملا۔اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی قدردانی کی اور اعزازی طور پر بھی فرمایا کہ تمہارے عمل کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ شکور ہے اور مومنوں نے جب اپنی کمزوری اور ہر ایک عمل کے لئے خدا تعالیٰ کی توفیق کی ضرورت کو دیکھا تو اپنے عمل کی کچھ حقیقت نہ پائی کیونکہ عمل بھی اس کے فضل ہی کا نتیجہ ہے۔