اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 920
ومن يقنت ٢٢ ۹۲۰ فاطره الَمْ تَرَ انَّ اللهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ۲۸۔کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے پانی اتارا بادل سے پھر اس کے ذریعہ سے میوے پیدا فَأَخْرَجْنَا بِهِ ثَمَرَتٍ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا کئے۔طرح طرح کے ان کے رنگ ہیں۔اور وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضُ وَحُمْرُ پہاڑوں میں سرخ وسفید گھائیں جن کے رنگ مُّخْتَلِفُ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ مختلف ہیں اور بعض نہایت ہی کالے۔وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِ وَالْأَنْعَامِ ۲۹۔اور آدمیوں میں اور چارپایوں میں اور بھولے جانوروں میں قسم قسم کے رنگ ہیں اسی مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ طرح ( اور مخلوقات ہے ) اس کے سوائے نہیں کہ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا إِنَّ اللهَ عَزِيزُ اللہ کے بندوں میں علم والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔بے شک اللہ بڑا زبردست غَفُورٌ ہے اور غفور ہے ہے۔یعنی کوئی مغرور مقابلہ کرے تو دبا دیا جائے گا۔یعنی جو ترقی کرے تو اس کے عیب ڈھانچے جائیں گے اور ابتلا سے محفوظ رکھا جائے گا۔آیت نمبر ۲۸ - مِنَ السَّمَاء مَاء۔اب وحی اور نبوت کی مثال دی جاتی ہے۔جیسے بارش سے سب اچھے بُرے جھاڑوں کا نشو ونما ہو جاتا ہے اسی طرح وحی والہام کے شروع ہونے سے اچھے بُرے خیالات باہر نکل آتے ہیں۔دیکھو نبوت سے پہلے ابو جہل ابوالحکم کہلاتا تھا وغیرہ وغیرہ واقعات۔ثمرات - مثلاً کھجور میں ہی ایک سو بیس قسم کی ہیں اور انگور بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں اسی طرح طبائع کا اختلاف ہے۔مِنَ الْجِبَالِ۔اور پہاڑوں میں بھی مختلف پیداوار۔کہیں ہیرا کہیں کنکر وغیرہ۔اسی طرح قرآن مجید پڑھنے یا سننے والوں کے اثر لینے میں مختلف حالات ہیں۔اَلْوَانُهَا - بارش مثل وحی کے ایک ہی ہوتی ہے مگر اختلاف تختم اور زمین کی وجہ سے یعنی صحبتوں اور خیالات نیک و بد کا اثر ایک سال کا، باپ سے نطفہ میں بچے کو آتا ہے۔پھر ماں اور آنے جانے والوں اور دعائیں کرنے والوں وغیرہ وغیرہ کا مختلف طرز پر اثر پڑتا ہے۔اس کا بڑا حصہ اٹھارہ سال تک بچہ پر وارد ہوتا ہے۔ایک چمارا اور نجی اور دہریہ سے لے کر غوث و قطب نبی بھی انسانوں میں داخل ہیں۔ان میں سے بہتر وہ عالم ہیں جو خشیة اللہ رکھتے ہوں متقی و عارف ہوں۔