اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 918
ومن يقنت ٢٢ ۹۱۸ فاطر ۳۵ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ کے دن منکر ہو جائیں گے تمہارے شرک سے اور تجھے کوئی بھی نہ بتائے گا خبر دار کے جیسا۔لے خَبِيرة الثالثة ياَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَآءُ إِلَى اللهِ وَاللهُ ۱۲۔اے لوگو! تم سب فقیر ہو اللہ کی طرف اور اللہ ہی غنی اور بے پروا تعریف کیا گیا ہے۔هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ إِنْ يَشَايُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيين ۷۔وہ اگر چاہے تو تمہیں دور کر دے اور لے آوے نئی مخلوق۔۱۔اور یہ بات اللہ پر کچھ دشوار نہیں۔وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللهِ بِعَزِيزِ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى وَ إِنْ تَدْعُ ۱۹۔اور نہ اٹھائے گا کوئی اٹھانے والا دوسرے مُثْقَلَةٌ إلى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلُ مِنْهُ شَيْ کے بوجھ کو اور اگر پکارے وہ شخص جس پر بھاری بوجھ ہوا اپنا بوجھ بٹانے کو تو اس سے کچھ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى إِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ بھی نہ اٹھایا جائے گا اگر چہ وہ قریب رشتہ دار ہی يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ ہو ( مگر کوئی ہاتھ نہ بٹائے گا ) اس کے سوا نہیں تو تو انہیں کو ڈراتا ہے جو ڈرتے ہیں اپنے رب وَمَنْ تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفْسِهِ ۖ سے تنہائی میں یا بے دیکھے اور نماز کوٹھیک درست رکھتے ہیں اور جو دل سے صاف ہوتا ہے تو وہ وَإِلَى اللهِ الْمَصِيرُ ط اپنے ہی نفس کے لئے صاف ہوتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے۔وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُة ۲۰۔اور نہیں برابر ہو سکتا اندھا اور آنکھوں والا ہے۔لے بمعنی اللہ سے بہتر تجھے خبر دینے والا کوئی نہ ملے گا۔یعنی یہ دعوی بالکل جھوٹ ہے کہ ہمیں اللہ کی کیا حاجت ہے۔سے یعنی بہکانے والے کام نہ آئیں گے۔ہے یعنی دوسروں کے کہنے پر چلنے والا اور خود آپ راہ پر آنے والا۔آیت نمبر ۱۹۔وَمَنْ تَزَكَّى۔اور جو دل سے صاف ہوا۔اخلاص مند ہوا۔ہادی کو اس کا نفع کم ہو کے نہ ملے گا۔یعنی راہِ راست پر چلنے والا خود بھی فائدہ اٹھائے گا۔