اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 85
سيقول ٢ ۸۵ البقرة ٢ ط وَالْجِسْمِ وَاللهُ يُؤْتِ مُلْكَهُ مَنْ تَشَاءُ جس کو چاہتا ہے اور اللہ بڑی وسعت دینے والا وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ بڑا جاننے والا ہے۔وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ايَةَ مُلْكِة آن ۲۴۹۔اور اُن سے کہا اُن کے نبی نے اُس کی حکومت يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَّبِّكُمْ کی نشانی یہ ہے کہ ملے گا تم کو ایسا قلب جس میں تسلی ہو تمہارے رب کی طرف سے اور ورثہ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ الُ مُوسَى وَالُ هَرُونَ ہے اس کا جو چھوڑا ہے ہارون اور موسیٰ کے ہم تَحْمِلُهُ الْمَلَيْكَةُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَكُمْ رَنگوں نے جس کو فرشتے اٹھائے پھرتے ہیں۔إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ ے اس میں تمہارے لئے پوری نشانیں ہیں جب تم ایمان رکھتے ہو۔فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ اِنَّ ۲۵۰۔پھر جب روانہ ہوا قد آور بادشاہ فوجوں اللهَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَهَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ کے ساتھ تو نبی نے کہا کہ اللہ آزمائے گا تم کو ایک تو کو فَلَيْسَ مِنِّى وَمَنْ لَّمْ يَطْعَمُهُ فَإِنَّهُ مِنی نہر سے تو جو پئے گا اس کا پانی وہ میرا نہیں اور جس نے اس کو نہ چکھا وہ میرا ہے مگر جو بھر لے ایک چلو ے نبی یا با دشاہ نے کہا۔(بقیہ حاشیہ) بادشاہ طلب کیا مگر جب طالوت تجویز ہوا تو انہوں نے انکار کر دیا اور اعتراض تو ہر مامور پر آدم سے ایں دم تک ہوتا ہی رہتا ہے۔وہ کیوں ہوا؟ فلاں کیوں نہ ہوا؟ فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے خلیفہ میں یہ ضروری نہیں کہ بہت سا اُس کے پاس مال ہو چونکہ وہ قوم کا مدبر ہوتا ہے اس لئے اُس میں علم کی ضرورت ہے اور ایسے جسم کی جس کے ساتھ وہ اس فرض کو نباہ سکے جسم سے مراد یہ نہیں کہ وہ فیل تن ہو۔آیت نمبر ۲۴۹ - التَّابُوتُ - اَلْقَلَبُ۔نووى شرح مسلم والبخاری۔قرآن شریف میں اَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ (الفتح: ۵) آیا ہے خلافت کا نشان یہ ہے کہ خلیفہ پر لوگوں کو اطمینان ہو جائے اور تسلی ہو جائے اور قوم کی افراتفری اور بے قراری اُس سے مٹ جائے۔آیت نمبر ۲۵۰ - فَلَمَّا فَصَلَ۔شہر یا مقام حکم سے جدا ہوا۔بنهر - آسائش و آرام کے معنی بھی آئے ہیں جیسے اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّتٍ وَ نَهَرٍ (الحجر: ٤٦)