اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 905
ومن يقنت ٢٢ سبا ٣٤ فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ ۱۷۔تو انہوں نے ہمارے حکم سے روگردانی کی تو وَبَدَّلْنَهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَىٰ أُكُلِ ہم نے ان پر بھیج دیا بڑے زور کا سیلاب اور ان کو دو باغوں کے بدلے ایسے دو باغ دیئے جن کے خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَ شَيْءٍ مِنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ پھل بدمزہ پیلو اور جھاؤ کے اور کچھ بیری کے تھے۔ذلِكَ جَزَيْتُهُمْ بِمَا كَفَرُوا وَهَلْ نُجزِی ۱۔یہ ہم نے جزا دی ان کو ان کی ناشکری اور انکار کی اور ہم تو اسی کو سزا دیتے ہیں جو ناشکرا منکر ہو۔إِلَّا الْكَفُورَ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بُرَكْنَا 19۔اور ہم نے کر رکھی تھی سہا والوں اور ان کے ۱۹ فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ پاس بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں بہت سی آمنے سامنے بستیاں اور اس سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا أَمِينَ میں ٹھہرا دی تھیں منزلیں۔چلو پھرو راتوں دنوں امن و امان سے۔فَقَالُوا رَبَّنَا بِعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا ۲۰۔تو انہوں نے اپنے کرتوتوں سے بتلا دیا کہ اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْتُهُمْ أَحَادِيثَ وَ مَزَّقْتُهُمْ وہ دور دراز سفر کے طالب ہیں اور اپنے پر انہوں نے آپ ظلم کیا تو ہم نے ان کو کر ڈالا كُلِّ مُمَزَّقٍ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتِ لِكُلِّ صَبَّارٍ کہا نئیں لے اور ان کو ہم نے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا شكوره چیر یر کر۔بے شک اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں ہر ایک بڑے صابر و شاکر کے لئے۔ا یعنی ایسے دور دراز ملکوں میں برباد ہو گئے کہ ان کے قصے اور کہانیاں رہ گئیں۔آیت نمبر ۱۷ - الْعَرِمِ - عرم۔بند ، وہ وادی جہاں بند تھا۔گھونس ،سخت ، سیلاب و بارش کے معنی بھی ہیں۔آیت نمبر ۱۹ - اَلْقُرَی۔ان مبارک بستیوں سے مراد شام کی بستیاں ہیں۔یمن اور شام کے درمیان مسقط کے سرسبز مُوَفَه الحال بستیاں تھیں جن میں باغات بکثرت اور راستے پر امن تھے۔آیت نمبر ۲۰ اسفار۔دور دراز سفر کے طالب۔تین مقصد کے لئے سفر کئے جائیں (۱) ماموروں اور صلحاء سے ملنے کے لئے یا حج فرض ہو تو (۲) دینی تعلیم حاصل کرنے اور کام کے لئے (۳) تبلیغ کے لئے اگر چہ تجارت وغیرہ کام اس کے ساتھ ہوں مضائقہ نہیں۔احادیث۔کہا ئیں۔یعنی ایسے دور دراز ملکوں میں برباد ہو گئے کہ ان کے قصے اور کہانیاں رہ گئیں۔