اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 904 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 904

ومن يقنت ٢٢ ۹۰۴ سبا ٣٤ رسِلِتٍ اِعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا ایک جا جمی رہیں (یعنی بڑی بڑی) اے آل دارد! شکر گزار بن کر کام کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار بہت تھوڑے ہیں۔وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى -۱۵ پھر جب ہم نے سلیمان پر موت جاری کی مَوْتِةٍ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ ( یعنی سلیمان علیہ السلام مر گئے ) تو ان کی موت سے واقف نہ کیا قوم نار کو مگر زمین کے ایک فَلَمَّا خَرَّتَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا کیڑے نے جو سلیمان کے عصائے (سلطنت) يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ کو کھاتا رہا تو جب وہ گر پڑا تو جنات اور شریروں نے جان لیا۔امرا نے معلوم کر لیا۔اگر وہ غیب الْمُهِينِ جانتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے لیے لَقَدْ كَانَ لِسَبَا فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتْنِ ۱۲- قوم سبا کے لئے ان کے مکانات میں ایک عَنْ يَمِينِ وَشِمَالٍ كُلُوا مِنْ نشانی تھی۔دو باغ تھے سید ھے اور بائیں۔حکم ہو گیا کہ کھاؤ اپنے رب کا رزق اور اس کا شکر رِزْقِ رَبَّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ بَلْدَةً طَيِّبَةً کرو۔یہ پاکیزہ شہر ہے اور رب غفور ہے۔وَرَبُّ غَفُورٌ ے دیکھو جن اور امراء غیب دان نہیں ہوتے۔آیت نمبر ۱۵ - دَابَّةُ الْأَرْضِ - زمین کا کیڑا۔دَابَّةُ الْأَرْضِ رجعام۔یہ سلیمان علیہ السلام کا بیٹا ہے جس کا نام رحبعام ہے۔یہ بد بخت نالائق و بد چلن تھا جس کے سبب سے سلطنت میں تزلزل پیدا ہو گیا یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے دس قبیلے باغی ہو گئے۔سرب عام کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔ضعف سلطنت دیکھ کر شہ زور پر دیسی لوگ جو تعداد میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ تھے اور سلیمان علیہ السلام کے دباؤ سے کام کر رہے تھے وہ بھی کام چھوڑ بیٹھے اور کہنے لگے کہ ہم کو پہلے معلوم ہو جاتا کہ سلیمان مرگئے ہیں تو ہم ہرگز مشقت میں نہ پڑے رہتے۔مِنسَأَتَهُ سے مراد عصائے سلطنت ہے جس کو زمینی کیڑے یعنی رجعام نے کھا لیا اور دَابَّةُ الأَرض سے مراد طاعونی جراثیم اور تامل سے مراد ان کا کاٹنا بھی ہے۔لفظ دَآبَّة عام ہے۔چرند و غیر پرند دونوں پر بولا جاتا ہے۔دَآبَّةُ الارض کے متعلق ایک اور حاشیہ اسی لفظ پر مفصل گزر چکا۔(زیر سورۃ النمل) آیت نمبر ۱۶ - بَلْدَةً طَيِّبَةٌ۔اس شہر سے مراد عرب کا جنوبی حصہ ہے جو یمن میں سمندر سے ملا ہوا ہے۔