اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 903
ومن يقنت ٢٢ ۹۰۳ سبا ٣٤ وَرَوَاحُهَا شَهُرٌ ۚ وَاسَلْنَا لَهُ عَيْنَ اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی اور رات کی الْقِطْرِ وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ منزل ایک مہینہ کی اور پچھلے ہوئے تانے اور ڈانبر اور گندھک و گیاس کا چشمہ ہم نے اس کو دیا تھا۔بِإِذْنِ رَبِّهِ وَمَنْ تَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا اور جن اس کے نوکر تھے (قوم عمالقہ) جو کام کرتے تھے سلیمان کے سامنے سلیمان کے ربّ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ کے حکم سے۔اور ان میں سے جو پھرے ہمارے حکم سے تو ہم ان کو چکھائیں گے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب (خلاف ورزی کرنے والے کو آگ میں جلا دیں گے )۔يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ ۱۴- جن یا قوم عمالقہ بناتے تھے سلیمان کے وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانِ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ لئے جو وہ چاہتا تھا قلعے ( کمانیں ) اور مورتیں اور لگن بڑے بڑے جیسے تالاب اور دیگیں جو اور ا یعنی سلیمانی جہاز خوش اقبال و موافقت سے بڑے تیز چلتے تھے۔سلیمان علیہ السلام حسب حکم شرع ان سے کام لیتے تھے ان پر ظلم نہیں تھا۔(بقیہ حاشیہ ) اتنی مسافت طے کرتے تھے جو اس زمانہ میں سفر بڑی کے لحاظ سے ایک ماہ کی راہ ہوتی تھی سورہ ص آیت ۳۶ میں تسخیر کے لفظ سے مفسرین نے دھوکا کھایا ہے مگر قرآن شریف میں تسخیر کا لفظ عام ہے بے وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهرَ (ابراهيم :۳۳) وغیرہ آیات۔حضرت سلیمان کی خصوصیت جہاز رانی میں بنی اسرائیل کے اندر اولیات کے سبب سے ہے اور ہم نے ریح کا ترجمہ اقبال (وَ تَذْهَبَ رِيحُكُمْ ) کا لحاظ کر کے کیا ہے۔عَيْن الْقِطْرِ - ڈانبر اور گندھک و گیاس۔تارکول۔آیت نمبر ۱۴ - يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ۔اور سلیمان کی مرضی کے موافق ان کے مہاجن اور ٹھیکہ دار کام کر دیا کرتے تھے جو قوم عمالقہ کے بڑے جن تھے۔بڑے زبر دست اور قومی کو بھی بھوت اور جن کہتے ہیں اور ایک پوشیدہ مخلوق بھی جن ہے جو فرشتوں کی طرح نظر سے غائب رہتی ہے مگر کشفی نظر سے کبھی دکھ جاتی ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت بڑی وسیع تھی قوم عمالقه تابع تھی لاکھوں مزدور لگوا کر حضرت سلیمان نے بیس برس میں دو مکان تیار کرائے سات برس میں تو بیت المقدس بنا اور تیرہ برس میں حضرت سلیمان کا ذاتی مکان۔