اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 902 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 902

ومن يقنت ٢٢ ۹۰۲ سبا ٣٤ اِنْ نَّشَأْ نَخْسِفُ بِهِمُ الْأَرْضَ اَوْ تُسْقِط گے تہ بہ تہ مصیبت آسمان سے۔کچھ شک نہیں کہ اس میں نشان ہے ہر ایک رجوع بحق رکھنے عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةٌ لِكُلِّ عَبْدٍ مُنيين والے بندہ کے لئے۔وَلَقَدْ أَتَيْنَا دَاوُدَ مِنَّا فَضْلاً لِجِبَالُ اَوِبِي۔اور بے شک ہم نے داؤد کو عطا فرمائی ہماری مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۚ وَالنَّا لَهُ الْحَدِيدَة طرف سے بزرگی۔اے پہاڑ والے بڑے آدمیو! اےسوار و! اے پرندو ! تم بھی داؤد کے ساتھ تسبیح کرو اور ہم نے نرم تر کر دیا اس کے لئے لوہے کو۔أَنِ اعْمَلْ سَبِخْتِ وَقَدِرُ فِي السَّرْدِ ۱۲- کہ بنا کشادہ زرہیں اور اندازے کا لحاظ رکھ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا إِنِّى بِمَا تَعْمَلُوْنَ کڑیوں کے جوڑنے میں اور اے لوگو ! نیک کام کرو۔جو کچھ تم کر رہے ہو میں بخوبی دیکھ بَصِيرٌ رہا ہوں۔وَ لِسُلَيْمَنَ الرِّيْحَ غُدُوهَا شَهْرُ ۱۳۔اور سلیمان کے لئے اقبال یا ہوا کو تابع کر دیا آیت نمبر 1۔لِجِبَالُ۔اے پہاڑو۔توریت (۱۸، زبورے دیکھو۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت داؤد علیہ السلام خدا کی تسبیح اور مناجات کرتے تھے تو ایسا سما بندھا جاتا تھا کہ در و دیوار و پہاڑ و پرند تسبیح کرتے معلوم ہوتے تھے اور جبال سے مراد متکبر اور پہاڑی لوگ بھی ہو سکتے ہیں اور طیر سے مرا دسوار اور رقیق القلب ، وحشی اور تیز رو اور جبال سے مراد متکبر جو پند و نصیحت نہ سننے والے ہوں۔مسلم کی حدیث میں ہے بہشت میں ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے جیسے ہیں۔غرض حضرت داؤد کی مناجات میں ایسا اثر تھا کہ پہاڑی و وحشی لوگ بھی متاثر ہو کر خدا کی طرف جھک جاتے تھے اور لوہا پگھلانے اور ڈھالنے کی صنعت یا ٹھنڈی کڑیوں سے زرہ بنانے کی ترکیب خدا تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کو سکھا دی تھی جیسا کہ زبور باب ۱۸ آیت ۳۴ میں ہے۔آیت نمبر ۱۲- قدر۔اندازہ رکھ۔زرہ بنا جو بوجھل نہ ہو ہلکی ہو۔اندازے کی ہو۔سارا وقت اس کام میں ضائع نہ کر۔میخیں چھوٹی ہوں۔آیت نمبر ۱۳ - لِسُلَيْمن الريح۔سلیمان کے لئے اقبال کو یا ہوا کو تابع کر دیا۔یعنی ہوا سے کام لینا سلیمان کو سکھلایا گیا تھا جس کے زور پر وہ اپنے جہاز چلاتے تھے اور یالہ میں بیڑا تھا۔وہ جہاز صبح وشام