اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 899 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 899

و من يقنت ۲۲ ۸۹۹ الاحزاب ۳۳ وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ خیانت کرنے سے اور ڈر گئے اس سے (یعنی كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا خیانت سے ) اور خیانت کی اس کی انسان نے اس لئے کہ وہ بڑا بے جا کام کرنے والا بڑا نادان تھا۔لِيُعَذِّبَ اللهُ الْمُنْفِقِينَ وَالْمُنْفِقْتِ ۷۴ تا کہ اس پر عذاب دے منافق مردوں اور وَالْمُشْرِكِيْنَ وَالْمُشْرِكْتِ وَيَتُوبَ اللهُ منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو۔اور ایماندار مرد اور ایماندار عورتوں پر عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ وَكَانَ اللهُ الله رجوع برحمت فرماتا ہے اور اللہ بڑا غفور غَفُورًا رَّحِيْمان हूँ الرحیم ہے۔(بقیہ حاشیہ) حَمَلَهَا أَى تَرَكَهَا اور قاموس سے حَمَلَ الْامَانَةَ ـ خِيَانَةً معنے آئے ہیں۔حظوظ نفسانی کا ترک اور اپنے مال و عیال سے غفلت اور لا پروائی کی بھی ضرورت ہے اسی واسطے اس کا نام ظَلُوم کہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے اور جھول اپنی جان ، مال و عیال کو بھی بھول سکتا ہے۔آسمان با رامانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیوانه زدند الْإِنْسَانُ۔یہاں اَلاِنْسَانُ ہے جس میں الف لام معرفہ کا ہے جس سے مراد کا فر یا منافق اور بعد اس کے صفت اور دلیل اس کی آ رہی ہے کہ ظلوم و جھول ہے۔پھر نتیجہ میں عذاب مشرک و منافقوں پر آ رہا ہے اور مومنوں کو خدا اپنی طرف لے رہا ہے اور صوفیوں نے اس کے معنے یہ بھی کئے ہیں کہ شریعت کو ہر ایک زمین و آسمان پہاڑوں کے سامنے پیش کیا لیکن انہوں نے اس خدمت کے اٹھانے سے انکار کیا۔اپنی فطرت سے اپنے آپ کو اس لائق نہ پایا مگر انسان اس بوجھ کو اٹھا سکتا ہے کیونکہ اس میں قوت جامع صفات ہے توظلوم و جُھول کے معنے صوفیوں کے نزدیک عاشق وشیدا اور اپنی طاقت سے بڑھ کر کام کرنے والا ہوں گے جیسا کہ انبیاء اور اولیاء کے حالات ہوتے ہیں اور الف لام معرفہ ان سے مخصوص ہوگا اور الإنسان بھی اس پر دال ہے۔آیت نمبر ۷۴۔لِيُعَذِّب۔تا کہ عذاب دے۔جنہوں نے امانت اللہ کو اٹھا رکھا اور اسے لیا نہیں یعنی اخلاق انسانی حاصل نہیں کئے اور نہ احکام الہی کی پیروی کی چونکہ ان کی ادائی واجب تھی اس لئے ان کو امانت کہا گیا۔وَ يَتُوب۔اللہ رجوع برحمت فرماتا ہے۔یعنی انہیں کو اللہ نے خلافت الہی دی اور وہ اس کام میں آسمان اور زمین اور جبال کی طرح مستحکم ہیں۔