اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 894 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 894

و من يقنت ۲۲ ۸۹۴ الاحزاب ۳۳ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ ۵۴۔اے ایماندارو ! نبی کے گھروں میں نہ داخل ہو مگر جب تم کو اجازت دی جائے کھانے إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ کے لئے نہ انتظار کرنے والے اس کے پکنے کا نظرِينَ إِنَّهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيْتُمْ لیکن جب تم بلائے جاؤ تو اندر چلے جاؤ پھر فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا جب کھا چکوتو واپس چلے جاؤ اور باتوں میں جی لگائے نہ بیٹھے رہو۔کچھ شک نہیں کہ یہ بات نبی مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ کو ایذا پہنچاتی ہے تو وہ تم سے شرماتا ہے اور اللہ تو يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِ مِنْكُمْ وَاللهُ لَا حق بات کہنے سے نہیں رکھتا۔اور جب نبی کی يَسْتَحْيِ مِنَ الْحَقِّ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ بیبیوں سے کچھ چیز مانگنا چاہوتو پردے کے پیچھے مَتَاعًا فَسْتَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سے وہ چیز مانگ لو۔یہ بڑی پاکیزہ بات ہے تمہارے دلوں کے لئے اور عورتوں کے دلوں ذلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ وَمَا کے لئے اور تم کو نہ چاہیے کہ ایذا دواللہ کے كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللهِ وَلَا آن رسول کو اور نہ یہ کہ نکاح کر لو اس کی بیبیوں سے تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِةٍ اَبَدًا إِنَّ اس کے بعد کبھی بھی۔کچھ شک نہیں کہ یہ اللہ ذلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمًا کے نزدیک بہت بڑا کام ہے۔بلے بے ادبی اور بے لحاظی کا کیونکہ رسول بہ حیثیت نبوت روحانی باپ ہے اور اس کی بیبیاں بہ حیثیت و حکم نبوت روحانی مائیں ہیں جیسے کہ ابتدائے سورۃ میں ثابت ہو چکا۔آیت نمبر ۵۴۔فَانْتَشِرُ وا۔جب کھانا کھا چکے تو چلے جاؤ۔آداب دعوت سکھائے جاتے ہیں کہ بے اجازت کسی کے گھر میں نہ جائیں جیسے طفیلی و فقراء وغیرہ غلام شکم، دعوتوں میں بے اذن گھتے پھرتے ہیں اور اس قدر جلدی بھی نہ جاؤ کہ کھانے کا انتظار کرنا پڑے اور نہ اتنی دیر میں جاؤ کہ کھانا کھا چکیں۔بلانے کے بعد گھر میں جاؤ اور کھاتے ہی واپس چلے جاؤ باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھے رہو کیونکہ گھر والے میزبان کو بہت کام ہوتے ہیں اور وہ حیا سے کہ نہیں سکتا اور اس کی مستورات و بچوں سے بلا اجازت کوئی چیز نہ مانگو اور عورتوں سے مانگو تو آڑ سے وغیرہ وغیرہ۔آداب الطعام۔وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا اَزْوَاجَه - آپ کی بیبیوں سے نکاح نہ کرنا۔رہا یہ کہ ان کا خرچ کون چلائے گا۔اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے بیت المال سے بیبیوں کے نان نفقہ کا بندوبست فرما دیا تھا جس سے مستورات کو تاحیات خرچ کی بھی تکلیف نہ ہوئی۔عِنْدَ اللهِ عَظِيمًا۔اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا کام ہے بے ادبی اور بے لحاظی کا کیونکہ رسول بحیثیت نبوت روحانی باپ ہے اور اس کی بیویاں بحیثیت وحکم نبوت روحانی مائیں ہیں۔