اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 893 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 893

و من يقنت ۲۲ ط ۸۹۳ الاحزاب ۳۳ مَنْ تَشَاءُ وَ مَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ اور جس پر تیرا جی چاہے۔اُن عورتوں میں سے فَلا جُنَاحَ عَلَيْكَ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ تَقَرَّ جن سے تو الگ ہو گیا تھا تو کچھ گناہ نہیں (اگر جگہ دے) یہ انتظام اور اجازت ان کی آنکھوں کی أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَ وَيَرْضَيْنَ ٹھنڈک کا موجب معلوم ہوتی ہے اور رنجیدہ نہ بِمَا أَتَيْتَهُنَّ كُلُهُنَّ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا ہوں اور وہ راضی رہیں اس پر جو تو نے ان کو دیا لے سب کی سب یعنی کوئی بی بی ناراضی ظاہر نہ في قُلُوبِكُمْ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَلِيمًا ) کرے اپنے حصہ پر راضی رہے۔اور اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ بڑا جاننے والا ہے گزشتہ انتظام کی خوبی اور بڑا حلیم ہے۔لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءِ مِنْ بَعْدُ وَلَا اَنْ تَبَدَّلَ ۵۳ - تجھ کو حلال نہیں اس کے بعد اور عورتیں بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجِ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اور یہ بھی جائز نہیں کہ ان کو بدل کر اور بیبیاں کرلے اگر چہ ان کا حسن کتنا ہی بھلا لگے مگر إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللهُ عَلَى اپنے ہاتھ کا مال (یعنی لونڈیاں جائز ہیں ) اور كُلِّ شَيْ ءٍ زَقِيبَان نیچے اللہ ہر ایک شے کا نگہبان ہے۔اے یعنی جس قدر تجھ سے ان کے خرچ وغیرہ کا انتظام ہو سکتا ہے۔آیت نمبر ۵۳ - لَا يَحِلُّ لَكَ۔تجھ کو حلال نہیں اس کے بعد اور عور تیں۔ابن عباس اور مجاہد اور ضحاک اور قتادہ اور حسن اور ابن سیرین کا قول ہے کہ جس وقت یہ آیت اتری اس وقت حضرت کے نکاح میں نو بیبیاں حضرت عائشہ حضرت صدیق کی بیٹی اور حفصہ حضرت عمر کی بیٹی اور حبیبہ ابوسفیان کی بیٹی اور سودہ زبانیہ ہلالیہ کی بیٹی اور زینب جحش کی بیٹی اور حارثہ مصطلقہ کی بیٹی جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنھن موجود تھیں مگر لونڈی رکھنے کی اجازت تھی۔چنانچہ مقوقس بادشاہ مصر نے آپ کو مار یہ لونڈی ہدیہ بھیجی اور یہ ازواج سورہ نساء کے نزول کے پہلے سے ہو چکی تھیں جس میں چار بیبیوں کی حد قائم ہوئی تو یہ کہنا غلط العام بات ہے کہ حضرت نے چار کی حد کو اپنے واسطے توڑ دیا کیونکہ سورہ نساء مدنی ہے اور اس سورۃ کے نو سال بعد نازل ہوئی ہے اس لئے جن مسلمانوں کے پاس چار سے زیادہ عورتیں تھیں انہوں نے چار کے سوا باقی چھوڑ دیں مگر آنحضرت کی بیبیاں چونکہ دوسرا نکاح نہیں کر سکتی تھیں اور نہ کوئی دوسرا مسلمان آداب و تعظیم کے لحاظ سے جب انہیں ماں سمجھتا تھا تو ان کو اپنے نکاح میں لاسکتا تھا۔اس لئے آپ کی بیبیاں بمصلحت بحال رہیں اور ساتھ ہی دوسری عورتوں سے نکاح کرنا منع ہو گیا جیسا کہ اس آیت شریف سے ظاہر ہوا۔