اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 892 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 892

و من يقنت ۲۲ ۸۹۲ الاحزاب ۳۳ وَبَنْتِ خُلتِكَ الَّتِي هَا جَرْنَ مَعَكَ بیٹیاں جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی اور ایماندار عورت اپنی ذات کو بخش دے نبی کے وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ لئے جبکہ نبی بھی چاہے کہ اس کو نکاح میں لے اِنْ اَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ تَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ آئے۔یہ خاص تیرے ہی لئے ہے سوائے مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا مومنوں کے۔ہم کو معلوم ہے جو ہم نے فرض کر دیا ہے ان پر ان کی بیبیوں کے معاملہ اور عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ لونڈیوں کے بارہ میں تاکہ نہ رہے تجھ پر تنگی۔أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَحج اور اللہ بڑا غفور الرحیم ہے۔وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَ تُوِى إِلَيْكَ ۵۲ - موقوف رکھے ،الگ کرے ان میں سے جسے چاہے اور جگہ دے اپنی طرف جسے چاہے آیت نمبر ۵- وَهَبَتْ نَفْسَهَا۔اگر اپنی ذات کو بخش دے۔بلا مہر نکاح کسی سے آپ نے نہیں کیا اور جس قدر بیبیئیں آپ کی تھیں وہ سب نکاح کی ہوئی تھیں۔خَالِصَةً لَكَ۔یہ تیرے ہی لئے خاص ہے۔یعنی سب قسم کی بیبیاں جو تیرے نکاح میں آچکی ہیں اُن سے اب کوئی مسلمان نکاح نہیں کر سکتا اور یہ تیری ہی عزت کی خصوصیات میں سے ہے اور چونکہ عملاً کسی عورت کا آپ کے نکاح میں بلا مہر آنا ثابت نہیں۔اس لئے اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ بلا مہر کسی عورت کو آپ نے اپنے پاس رکھا اور وہ آپ کو جائز تھی۔فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ۔ہم کو معلوم ہے جو ہم نے فرض کر دیا ہے ان پر یعنی مہر اور مہر کی مقدار جوامام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک کم از کم دس درہم ہے اور شافعی کے نزدیک پیسہ دو پیسہ تک بھی اور ہر ایک چیز جو قیمت کی صلاحیت رکھتی ہے اور اہل ظواہر کے نزدیک قرآن کی کوئی سورۃ پڑھا دینا یا کوئی دینی خدمت کر دینا بھی کافی ہو سکتی ہے مگر آنحضرت نے اس پر عمل نہیں کیا ورنہ اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا اس طرح جائز ہو جاتا۔زیادہ مہر کی حد نہیں خاوند کی حیثیت پر ہے۔لغو معاملات نہ ہوں۔آیت نمبر ۵۲ - ترجی۔موقوف رکھے۔یہ آیت طلاق کے بارہ میں ہے یعنی جس کو چاہیں آپ طلاق دے دیں اور جس کو چاہیں اپنی بیوی بنارکھیں بعض نے اس کو شب باشی کے متعلق بھی کہا ہے مگر معتبر پہلا قول ہے کیونکہ آپ کا عمل ہمیشہ عدالت پر رہا ہے مگر با جازت شب باشی کے متعلق بھی ہو سکتا ہے اگر چہ آپ نے اپنی رحمت سے اس اختیار کو برتا نہیں۔