اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 83
سيقول ٢ ۸۳ البقرة ٢ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمْ التهِ لَعَلَّكُمْ ۲۴۳۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کھول کھول کر بیان پہنچ کرتا ہے اپنے احکام تا کہ تم سمجھو۔تَعْقِلُونَ اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ ۲۴۴۔کیا تم نے نظر نہیں کی ان کے حال پر جو۔وَهُمْ ألُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ لکلے اپنے گھروں سے اور وہ ہزاروں تھے ،موت کے ڈر کے مارے تو اللہ نے ان کو کہا کہ مرجاؤ پھر تف الله مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللهَ لَذُو ان کو زندہ کر دیا بے شک اللہ بڑا مہربان ہے لوگوں فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ پر ولیکن اکثر لوگ (اس کا) شکر نہیں کرتے۔لَا يَشْكُرُونَ وَقَاتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللهِ وَاعْلَمُوا اَنَّ اللهَ ۲۴۵۔اور (اے مسلمانو!) اللہ کی راہ میں لڑو اور جانو کہ اللہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔سَمِيعٌ عَلِيمٌ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا ٢٤٦- کون ہے جو اللہ کی راہ میں مال کو الگ کر فَيُضْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةٌ وَاللَّهُ دیتا ہے عمدگی کے ساتھ اللہ بڑھاتا ہے اس کو بہت اور اللہ لیتا ہے اور اُس کو بڑھاتا ہے اور تم اُسی يَقْبِضُ وَيَبْطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ) کے طرف لوٹوٹے (یعنی جیسا کروگے ویسا پاؤ گے)۔لا یعنی بے ریا اور بے دکھاوے خالص اللہ کے لئے اور دل کی خوشی سے۔آیت نمبر ۲۴۴ - اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ۔دیکھو پارہ ۶ رکوع ۸ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ ( المائدة : ۲۷) وہ نا فرمان مر گئے دوسرے پیدا ہوئے۔یہ موسیٰ علیہ السلام کی بددعا سے خراب و خستہ ہوئے ظلم وقتل فرعون سے بھاگے تھے۔نافرمانی کی سزاملی پھر بقیہ اولا دصالح نے ترقی حاصل کی۔ثُمَّ اَحْيَاهُمْ - هُمْ کی ضمیر سے اصیل ہی نہیں بلکہ مثیل بھی مراد ہوتے ہیں اور مختلف صیغوں میں۔چنانچه متکلم کی مثال ما قُتِلْنَا ههنا ( ال عمران : ۱۵۵) (۲) مخاطب کی وَاِذْ قُلْتُمْ يَمُوسى (البقرة: ۲۲) (۳) غائب کی مثال وَلَا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِةٍ (فاطر:۱۲) - آیت نمبر ۲۴۶ - وَاللهُ يَقْبِضُ وَيَقُط - اللہ تمہارے دیئے ہوئے کو لے کر بڑھاتا ہے اور جب تم اس کے حضور جاؤ گے تو دیا ہوا پاؤ گے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے صدقہ کو لیتا ہے اور اسے ایسا بڑھاتا ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کو پالتا ہے۔