اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 2 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 2

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ ) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ملِكِ يَوْمِ الدِينِ إيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ الفاتحة 1 ۲۔سب تعریف اللہ ہی کی ہے جو آہستہ آہستہ سب جہانوں کو کمال کی طرف پہنچانے والا۔۳۔بے محنت انعام دینے والا ، کچی کوشش کا بدلہ دینے والا۔۴۔جزا اور سزا کے وقت کا مالک ہے۔۵۔(اے سب خوبیوں والے صاحب!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں حالانکہ ہم کبھی سے مدد بھی چاہتے ہیں۔اهْدِنَا الصِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ )۔ہمیں وہ پاس والی سیدھی راہ چلا۔( اَلرَّحِیم اپنی فرمانبرداریوں پر عمدہ سے عمدہ نتائج دینے والا۔مثلاً ایمان سے راضی ہوتا ہے۔اعمال صالحہ سے آرام بخشتا ہے۔سعی و کوشش کے عمدہ پھل دیتا ہے۔آیت نمبر ۲۔رب کے معنی پالنے والا۔بتدریج ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف لے جانے والا۔ال کے معنی سب۔عالم کے معنی جہان۔عالمین کے معنی بہت جہان۔آیت نمبر ۲ - ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔يوم کے معنی وقت۔دین کے معنی جزا اور سزا۔طریقہ و قیامت۔دنیا میں بھی جزا وسزا ہوتی رہتی ہے۔قبر میں بھی ہوگی ، پھر حشر میں، پھر صراط پر، پھر جنت اور نار میں اور ان سب مقاموں اور وقتوں کا اللہ ہی مالک ہے اور اس کی جزا اور سزا سمجھ داروں کے لئے کھلے طور پر روز روشن کی طرح یہاں بھی ہوتی ہے۔مسئلہ جزاوسز ارحم پر مبنی ہے اور تکمیل نفس مقصود ہے۔آیت نمبر ۵۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ چونکہ کلام تین قسم کا ہوتا ہے پہلا عرضی نویس۔اگر قانون کا نا واقف لکھ دے تو نا مقبول، واقف لکھے تو مقبول ہو۔دوسرا درخواست گزارخود ہی لکھ دے۔تیسرے حاکم خود لکھوا دے۔قرآن مجید میں تینوں قسم کے کلام موجود ہیں پس اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ وہ عرضی ہے جو حاکم نے خود لکھ دی۔آیت نمبر 1 - اهْدِنَا ہدایت کے معنی قرآن شریف میں چار قسم کے آتے ہیں۔پہلے فطری قومی کے موافق عملدرآمد کرنا چنانچہ - اغطى كُلِّ شَيْ خَلْقَهُ ثُمَّ هَلى ( طه :۵۱)۔دوسرا نیک اعمال کے بعد اور نیکی