اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1
الفاتحة 1 سُوْرَةُ الْفَاتِحَةِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ سَبْعُ آيَاتٍ وَّ رُكُوْعٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔میں پڑھنا شروع کرتا ہوں اُس کے نام کی مدد سے جس میں خوبیاں ہی خوبیاں ہیں ، جو بے مانگے دینے والا ، سچی محنتوں کو ضائع نہیں کرنے والا ہے۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے کہ سورۃ فاتحہ داخل قرآن نہیں۔مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ کلام الہی نہ ہو یا تو اتر میں اس کے فرق آتا ہو بلکہ یہ سورۃ قرآن شریف کا اصل متن ہے اور باقی حصہ الم سے وَالنَّاس تک اس کی شرح ہے۔چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اتَيْنُكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ ( الحجر :۸۸ ) اور قرآن فیض رحمانی کا نزول ہے۔جیسا کہ الرَّحْمَنُ ةُ عَلَمَ الْقُرْآنَ (الرَّحمن (٣٢) وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنین (بنی اسراءیل : ۸۳) یہ سورہ شریف ایک دعا ہے جامع جس کا مقابلہ کوئی دعا نہیں کرسکتی۔آیت نمبرا۔بسم اللہ کی ب متعلق بفعل اقرء ہے بمعنی استعانت۔چنانچہ وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ (يوسف:۱۹) اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مدد لے سکتے ہیں اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔پس با کو استعانت کے لئے تجویز کرنا نا جائز یا خلاف ادب نہیں۔اللہ حقیقی معبود جس کے ہر آن ہم محتاج ہیں، تمام کامل خوبیوں سے موصوف اور تمام بدیوں سے منزہ۔یہ اسم اعظم ہمیشہ سب اسماء حسنی کا موصوف ہی رہے گا۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سات صفات کا بیان کیا ہے۔(۱) اسم اعظم الله (۲) الرَّحْمن (۳) رَحِيم ( جو بسم اللہ میں ہے ) (۴) رَبُّ العَالَمِين - (۵) رحمن (۲) رحیم ( یہ کر نہیں با اعتبار اپنے خواص و معانی ومحل کے ) (۷) مَالِكِ يَوْمِ الدِّين۔الرَّحْمن محض فضل سے دینے والا ، بلا مبادلہ اعلیٰ سے اعلیٰ بخشنے والا جیسے کہ اس نے آسمان اور زمین وغیرہ کی چیزیں ہمارے لئے بنا ئیں۔آیہ شریف اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (البقرة: ۱۲۵)۔