اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 3 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 3

الفاتحة 1 صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔جو تیرے مقبول بندوں کی ہے۔ان کی راہ ے۔غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّائِينَ مت چلا جن پر تو خفا ہوا اور نہ ان کی جو سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہو۔آمین۔صاحب تو ایسا ہی کر۔یہ دعا سنت ہے بعد الحمد کے۔(بقیہ حاشیہ) کی توفیق بخشنا جي وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْازَادَهُمْ هُدًى (محمد : ۱۸)۔تیرے اپنی رضامندی کی راہوں کی طرف بلانا۔مثلاً إِنَّ عَلَيْنَا لهدى ( الليل :۱۳)۔چوتھے کسی کامیابی کی منزل پر پہنچنا۔جیسے بہشتیوں کا قول الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى هَدْنَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِتَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدْنَا اللهُ (الاعراف :۴۴) اور ضلالت اس کے بالمقابل ہے۔آیت نمبر۔اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - قرآن کریم میں بکثرت اسی جماعت کا ذکر ہے اور مقصود بالذات بھی یہی أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاء ( النساء:۷۰) وغيره وغيره انبیاء صدیقین۔شہداء۔صالحین کی کارروائی اور اعمال میں فرق کی مثال انبیاء مثل گل کے صِدّیقین مانند گتا دار کے۔شہداء حضوری میں کام کرنے والے۔صالحین۔با آہستگی کام کرنے والے۔کام کی صلاحیت رکھنے والے۔الْمَغْضُوب کے دو نشان ہیں پہلے علم بلا عمل۔دوسرے بغض وحسد بے جابا اولیاء وانبیاء۔یہ اصطلاح جماعت ہے۔حدیث میں یہودی کہلاتے ہیں۔کسی فرقہ کے ہوں۔الضالین کے بھی دونشان ہیں۔پہلے الہیات کا علم نہیں مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لا با بهم (كهف:1)۔دوسرے بے جا محبت بزرگوں سے جیسے المَسِيحُ ابْنُ اللهِ (التوبة: ٣٠) - ضَالّين میں شد و مد ہے اس لئے ان کا زمانہ لمبا ہو گا اور باصطلاح حدیث نصاریٰ کہلاتے ہیں۔تمام قرآن شریف میں انہی تین قوموں کا ذکر ہے۔یہ تین جماعتیں دنیا میں از آدم تا قیام قیامت و آخر دم تک ہمیشہ رہتی ہیں۔پہلے أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم۔دوسرے مَغْضُوب۔تیسرے ضَالِین۔ان کی شرح حالات تمام قرآن مجید میں آتی رہے گی جو خلاصہ اس دعاء اعظم میں مذکور ہیں۔آمین۔یه کلمه داخل قرآن نہیں مگر بعد سورہ فاتحہ اس کا پڑھنا سنت ہے۔