اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 889
و من يقنت ۲۲ ۸۸۹ الاحزاب ۳۳ زَوَّجُنُكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ چکا اپنی حاجت اس سے لے ہم نے وہ عورت حَرَج فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَا بِهِمْ إِذَا قَضَوْا تیرے نکاح میں دے دی تاکہ مسلمانوں پر کسی طرح کی تکلیف نہ رہے ان کے منتینی لڑکوں کی مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللهِ مَفْعُولًا بیبیوں سے نکاح کر لینے میں جب وہ یعنی متبنی اپنی بیبیوں کو طلاق دے دیں اور اللہ کے کام تو واقع شدہ ہی ہیں۔مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ ۳۹۔نبی پر کچھ مضائقہ نہیں اس بات میں کہ جو اللہ نے اس کے لئے ٹھہرا دیا۔یہی طریقہ اللہ کا الله له سنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ رہا ہے ان لوگوں میں جو اوّل گزر چکے ہیں۔وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورَا اور اللہ کا حکم معین وقت کے لئے اندازہ کیا ہوا ہے۔الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسالَتِ اللهِ وَيَخْشَوْنَهُ ۴۰ جو لوگ اللہ کے پیغام پہنچاتے رہتے ہیں اور کسی سے نہیں ڈرتے اللہ کے سوائے۔اور وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا إِلَّا اللَّهَ وَكَفَى بِاللهِ حَسِيبًا اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔مَا كَانَ مُحَمَّدُ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ (۱) محمد تو کسی کا باپ نہیں تمہارے مردوں میں۔ے یعنی میاں بی بی میں بنتی نہیں تو طلاق دے چکا۔ے یعنی کسی وقت میں کون سی رسم باطل کی جائے گی اور طریقہ نیک جاری کیا جائے گا۔(بقیہ حاشیہ) لئے ارشاد ہے لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى ( طه : ۱۹) جنگ و ہزیمت کا خوف نہیں تھا بلکہ قوم کے ارتداد کا۔کیونکہ ارشاد ہے وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا إِلَّا الله (الاحزاب: ٤٠) وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَا بِهِ (المائدة :۵۴)۔عام مومنوں کے لئے اور مخاطبوں کی بشریت کا لحاظ رکھ کر بھی جو مطیع رسول ہونے کے سبب سے تخاطب کے قابل ہیں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ نقصان کا راستہ چھوڑ کر کمال اختیار کرو۔حَرَج تنگی یعنی مُتبتاؤں کی مطلقہ بیبیوں سے بلا مضائقہ نکاح کر سکتے ہیں اور یہ رسم جاہلیت کا ابطال تھا۔آیت نمبر ۴۰۔حَسِيبًا۔حساب لینے والا ہے مخالف ہنسی اڑانے والوں سے یعنی جو ان احکام کی تعمیل کو بُرا سمجھتے ہیں خدا ان سے بدلہ لے لے گا۔