اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 888
ومن يقنت ٢٢ ۸۸۸ الاحزاب ۳۳ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا الله کو سپر بنا اور اس کا خوف رکھ اور تو چھپاتا تھا مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللهُ اَحَتَّى أَنْ اپنے جی میں اس بات کو جسے اللہ ظاہر فرمانے والا ہے۔تو لحاظ کرتا تھا لوگوں سے حالانکہ اللہ تَخْشُهُ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زیادہ لحاظ کے قابل ہے۔پھر جب زید پوری کر (بقیہ حاشیہ ) آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کا اپنی پھوپھی زاد بہن سے نکاح کرا دیا اور رسم جاہلیت کا ابطال کیا۔یہ بی بی زینب اپنی قوم کی شریف قریش کے معزز خاندان کی تھی۔غلاموں سے نکاح کرنا تو در کنار وہ تو ان کو بھی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے جن کی ننھال یا ددھیال یا دور و دراز رشتہ میں کوئی غلام مرد یا عورت ہوتا۔چنانچہ حسان بن ثابت نے ابوسفیان کی ہجو اسی بناء پر کی ہے کہ اس کے ننھال میں کوئی لونڈی تھی۔شعرحستان إِنَّ صِنَامَ الْمَجُدِ مِنْ آلِ هَاشَمٍ بَنُو بِئْتِ مَخْزُومٍ وَ وَالِدُكَ الْعَبْدُ زید بن حارثہؓ کو چونکہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بعثت سے پہلے آزاد کیا اور اس کو بیٹا بنایا اور میں اس کا وارث اور یہ میرا وارث فرمایا۔رواج جاہلیت کے مطابق متبنی بالکل اصل بیٹا ہی سمجھا جاتا تھا اس لئے زید کو وہ عزو شرف خاندانی حاصل ہو گیا جس کے باعث سے زینب بنت جحش آنحضرت کی پھوپھی زاد بہن اس کے نکاح میں دی گئی اور یہ نکاح اس کا آنحضرت نے ہی کرایا۔جب ابتداء سورہ احزاب نازل ہوئی اور رسم متبشی کو باطل کیا گیا اور جس قدرمنہ بولائے بیٹے تھے وہ اپنے آباء کی طرف منسوب کئے گئے یا ان کا نام آزاد کردہ غلام رکھا گیا، زید جو کہ ابن محمد کہلا تا تھا ابن حارثہ کہلانے لگا اور بجائے اس کے کہ وہ قریشی حق تھا وہ موالی میں داخل ہوا تب زینب جو کہ شریف النسب عرب کی حمیت وغیرت اپنے اندر رکھنے والی عورت تھی اس نے یہ گوارا نہ کیا کہ اس کے نکاح میں وہ رہے اور اس کو کفو کے خلاف سمجھا تو زید کے گھر میں تنازع واقع ہوا۔نبی کریم ﷺ رحمۃ للعلمین فتنوں کی پیش بندی فرمانے والے آپ نے یہ دیکھا کہ یہ نکاح میرے ہی باعث سے زید سے ہوا اب طلاق ہونے کے بعد اس عورت کی اور اس کے اولیاء کی بہت بڑی دل شکنی ہو گی اور ان کو بے انتہا صدمہ ہوگا۔آپ نے یہ تجویز کی کہ اپنے سے نکاح کرلیں مگر وہ رواج جاہلیت کے خلاف تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسم متبنی کا پورا پورا قلع قمع کرنے کے لئے یہ حکم دیا کہ آپ زینب سے نکاح کریں۔اس سے رسم متبنی کے ابطال کے علاوہ زینب اور اس کے اقارب کی دلداری ہے اور زینب کی وہ عار جو اس کے خیال میں زید بن حارثہ کے نکاح میں رہنے سے تھی اس کا پورا پورا ازالہ ہے۔اَحَقُّ اَنْ تَخْشُهُ - اے مخاطب ! اللہ زیادہ لحاظ کے قابل ہے۔یہ لوگوں کے ارتداد اور کمزوری کا خوف تھا جو انبیاء کو ہوتا ہے نہ کہ تعمیل ارشاد الہی میں کچھ خوف تھا۔اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کا خوف جس کے