اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 886
و من يقنت ۲۲ ۸۸۶ الاحزاب ۳۳ اتَّقَيْتُ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ ہوہی نہیں۔جب تم متقی ہو تو ملمع سازی کی باتیں نہ کرو ( دب کر ) نرم آواز سے بات نہ کہا کرو پھر طمع الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفَان کرنے لگے گاوہ شخص جس کے دل میں کمزوری ہے منافق بے ایمان ) اور دستور کی بات کہہ دیا کرو۔وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ ۳۴۔اور جمی بیٹھی رہو اپنے گھروں میں اور بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو زمانہ جاہلیت کے بناؤ سنگھار کی طرح اور نمازوں کو ٹھیک درست رکھو الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلوةَ وَاتِينَ الزَّكوةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اور زکوۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ فرمانبرداری کرتی رہو۔اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ دور کر دے تم سے گندگی کو اے گھر والیو! اور تم وَيُطَرَكُمْ تَطْهِيرًان کو خوب پاک صاف بنائے۔آیت نمبر ۳۳ - قُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا۔دستور کی سیدھی سادھی بات کہہ دیا کرو لگ لپٹ کی بات نہ کہا کرو۔بضرورت عورتیں مردوں کو جواب دے سکتی ہیں اور ان کی آواز ستر میں داخل نہیں جیسے بعض فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے۔ہاں ملاوٹ کی نرم بات منع ہے۔آیت نمبر ۳۴ - اَلْجَاهِلِيَّةِ الأولى - اگلے جاہلیت کے زمانہ کی طرح۔پہلے زمانہ جاہلیت میں جیسا کرتی تھیں یعنی بے نقاب و پردہ نہ پھریں۔زیورات دکھا تیں اور کھنکھنا تھیں اور زینت کی چیزیں ظاہر کرتی تھیں ویسا نہ کریں۔أَهْلَ الْبَيْتِ - گھر والیو۔اہل بیت سے اولاً اور بالذات بیبیاں مراد ہوتی ہیں چونکہ لفظ اھل استعمال میں مذکر ہے اس لئے خطاب بلفظ مذکر ہوتا ہے۔قرآن کریم میں جہاں کہیں اہلِ بیت کا ذکر آیا ہے وہاں بیبیاں ہی مراد ہوتی رہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ آل اولا د اس میں داخل نہیں۔وہ بھی داخل ہیں لیکن ازواج کا نکال دینا یہ ہرگز جائز نہیں جیسا کہ حضرت ابراہیم کی بیوی کے لئے ارشاد ہوا رَحْمَتُ اللهِ وَبَرَكتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ( هود : ۷۴ ) اور موسیٰ کی والدہ کے لئے هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ يَكْفُلُوْنَهُ لَكُمْ (القصص :۱۳) اور عرب کا عام محاورہ ہے اور فارسی اور اردو میں بھی بیبیوں کو پوچھتے ہیں کہ آپ کے گھر کے لوگ کیسے ہیں۔ضمیر بھی مذکر لے آتے ہیں کہ گھر کے لوگ کیسے ہیں۔یہ بھی کہتے ہیں گھر کی عورت کیسی ہے اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی اور فاطمہ اور اپنے نواسوں کو بھی نبی کریم علیہ نے اس میں داخل کیا ہے اور یہاں اہل بیت سے ماقبل اور مابعد بیبیاں ہی مخاطب ہیں۔سوا بیبیوں کے اور کوئی مخاطب نہیں تو ازواج مطہرات کو اہلِ بیت سے نکال دیا کیسی بڑی دلیری ہے یا تعصب سے نابینائی ہے!!