اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 883
اتل ما اوحی ۲۱ ۸۸۳ الاحزاب ۳۳ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ ۲۲۔تمہارے لئے موجود ہے اللہ کے رسول میں حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ نیک چلنی کا نمونہ اس شخص کے لئے جو امید رکھتا ہے اللہ (کے ثواب) اور آخرت کے دن کے حساب سے نجات کی ) اور اللہ کو بکثرت وہ یاد کرتا رہتا ہے۔وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًات وَلَمَّارَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوا ۲۳۔اور جب دیکھا ایمانداروں نے لشکروں کو هذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ کہنے لگے کہ یہ وہی ہے جس کا ہم سے وعدہ کیا تھا اللہ اور اس کے رسول نے اور بیچ فرمایا تھا اللہ الله وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا اور اس کے رسول نے۔اور اس واقعہ نے ان کے ایمان اور فرمانبرداری ہی کو زیادہ کیا۔وَتَسْلِيمان مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا ۲۴۔ایماندار آدمی ایسے ہیں جنہوں نے اس الله عَلَيْهِ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا عہد کو سچ کر دکھلایا جو اللہ سے انہوں نے عہد کیا تھا کوئی تو ان میں سے ایسا ہے جو پورا کر چکا اپنا ذمہ اور کوئی منتظر ہے اور رد و بدل نہیں کیا کسی نے ذرا سا بھی۔تَبْدِيلًاة آیت نمبر ۲۲ - أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ - رسول اللہ میں نیک چلنی کا نمونہ ہے یعنی جو شخص اللہ کو مانتا ہے اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اسے رسول اللہ ﷺ کی چال پر چلنا چاہئے کیونکہ انسان ناقل ہے۔بدوں نمونہ کے یہ کسی علم پر عمل نہیں کر سکتا۔آیت نمبر ۲۳ - مَا وَعَدَنَا الله۔جس کا ہم سے وعدہ کیا تھا اللہ نے ، یعنی کعب بن اشرف یہودی ایک لشکر جرار چڑھا لایا اور وہ خود بھاگ نکلے۔سورۂ حق جو مکی ہے اس کے رکوع اول میں بدیں الفاظ وعدہ فرمایا جُندٌ ما هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ (ص :۱۲)۔اور یہاں اس کا ایفاء ہے۔آیت نمبر ۲۴ - تَبْدِيلًا۔رد و بدل نہیں کیا کسی نے ذرہ سا بھی۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی صحابی بھی مرتد نہیں ہوا۔شیعہ اور عیسائی اور آریہ اس آیت کو دیکھیں کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء میں افضل ہیں ویسے ہی آپ کے صحبت یافتہ لوگ ہیں۔برخلاف مسیح علیہ السلام کے بارہ حواریوں کے کہ سب کے سب صلیب کے وقت بھاگ گئے اور کسی نے آپ پر لعنت بھیجی اور بڑے حواری یہودا نے تمہیں روپیہ لے کر ان کو پکڑوا دیا۔