اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 881
اتل ما اوحی ۲۱ ΑΔΙ الاحزاب ۳۳ وَاذْ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ فِي ١٣۔اور جب منافق کہتے تھے (منافق کون) قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُوْلُةَ جن کے دلوں میں کمزوری ہے کہ اللہ اور اس إِلَّا غُرُورًا کے رسول کا وعدہ تو دھوکا ہی دھوکا تھا۔وَإِذْ قَالَتْ طَابِفَةٌ مِنْهُمْ يَا هُلَ يَثْرِبَ لَا ۱۴۔اور جب کہنے لگی ان میں سے ایک يَاهْلَ جماعت اے یثرب کے لوگو! تم کو ٹھہرنے کی مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا ۚ وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ کوئی جگہ نہیں۔بس لوٹ چلو اور اجازت مانگنے مِنْهُمُ النَّبِي يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ لگے ان میں سے کچھ لوگ نبی سے کہنے لگے کہ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ اِنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا ہمارے گھر خالی ہیں۔( یعنی غیر محفوظ ) حالانکہ وہ خالی نہیں ( یعنی غیر محفوظ نہیں ) ان کا ارادہ تو صرف بھاگنے ہی کا ہے۔۔وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمْ مِنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ ۱۵۔اور اگر اُن پر آ گھسیں مدینہ کے اطراف سے (فوجیں ) پھر ان سے خانہ جنگی طلب کی سبِلُوا الْفِتْنَةَ لَا تَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا بِهَا جائے تو ضرور اس کو دے دیں گے یہ اور اس میں ٹھہریں گے نہیں مگر تھوڑا سات۔إِلَّا يَسيران وَلَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللهَ مِنْ قَبْلُ ۱۲۔اور وہ اللہ سے پہلے ہی عہد کر چکے تھے کہ لَا يُوَتُونَ الْأَدْبَارَ وَكَانَ عَهْدُ اللهِ پیٹھ نہ پھیریں گے۔اور اللہ کے اقرار کی پوچھ ہونی ہے۔مسود قُلْ أَنْ يَنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ إِنْ فَرَرْتُهُ ۱۷۔کہہ دو ہرگز تیم کو نفع نہ دے گا بھا گنا اگر تم مِنَ الْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ وَإِذَا لَا تُمَتَّعُونَ بھا گو موت سے یا قتل سے اور اس وقت فائدہ نہ دیئے جاؤ گے مگر تھوڑا سا۔إِلَّا قَلِيْلًا ے جھوٹے بہانے بنا کر۔کیونکر منافقوں کا یہی حال ہوتا ہے۔(بقیہ حاشیہ ) نکاح بیوگان کی نسبت زبور میں پیشگوئی تھی۔اس میں دشمنوں کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ دس ہزار بیرونی تھے اور بنو قریظہ اور نضیر اندرونی تھے۔مقصد دشمنوں کا یہ تھا کہ اہلِ اسلام کا نام ونشان مٹا کر چھوڑ دیں۔مسلمان اس کثرت کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔