اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 880 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 880

اتل ما اوحی ۲۱ ۸۸۰ الاحزاب ۳۳ عَلَيْهِمْ رِيحًا وَ جُنُودَ الَّمْ تَرَوْهَا وَكَانَ پر ہوا اور وہ فوجیں جن کو تم نے نہیں دیکھا اور تم جو کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًان إِذْ جَاءُ وَكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ۔اور جب وہ تم پر آ چڑھے تمہارے اوپر سے لے اور تمہارے نیچے کی جانب سے اور آنکھیں مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ پھر گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے۔اور اللہ پر تم القُلوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللهِ الظُّنُونَا طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔هُنَالِكَ ابْتِلَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا ١٢۔جہاں پر انعام دینے کے لئے ایمانداروں کی ۱۲۔آزمائش کی گئی اور خوب زور سے ہلائے گئے۔شَدِيدًان ے یعنی عرب۔ے یعنی سخت تکلیف پہنچی اور گھبراہٹ ہوئی۔یعنی مدینہ کے مخالف۔آیت نمبر 1 - لَمْ تَرَوْهَا۔اور وہ فوجیں جن کو تم نے نہیں دیکھا۔یعنی مسلمان سوتے تھے مخالفین سے کسی کی آگ بجھ گئی اس نے بدشگونی خیال کی کہ شکست حاصل ہوئی اس لئے وہ چل دیا اور دوسروں نے دیکھا دیکھی ایسا ہی کیا۔یہ رعب آسمانی تھا کہ مسلمانوں نے اسے معلوم ہی نہ کیا کہ مخالف کیسے چلے گئے اور کس لشکر نے انہیں بھگا دیا۔آیت نمبر ۱۲ - زِلْزَ الَّا شَدِيدًا۔خوب جھڑ جھڑائے گئے۔یہ غزوہ خندق کا ذکر ہے جس کا دوسرا نام احزاب ہے۔یہ واقعہ ہجرت کے پانچویں سال واقع ہوا۔مدینہ کے جس قبیلہ کو بدعہدی کی وجہ سے آنحضرت نے نکال دیا اور وہ خیبر جا رہا۔پھر وہاں سے مکہ کو آیا اور قریش کو بر خلاف حضرت کے بھڑ کا یا اور قبیلہ غطفان بنی فضارہ کو بھی اکسایا۔اس کے سپہ سالار ابوسفیان و عتبہ تھے۔فوج دس ہزار کے قریب ہو گی۔حضرت کو جب یہ خبر پہنچی تو سلمان فارسی کے مشورے سے مدینہ کے شرقی جانب خندق کھودنے کا حکم دیا۔خندق میں پہاڑی حصہ نکلا۔صحابہ کے کہنے سے آپ خود تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے کدال مارا کہ پتھر سے روشنی نکلی۔آپ نے کہا مجھے فارس دکھلایا گیا اور وہ فتح ہوگا۔اسی طرح دوسری کدال میں روم کی نسبت فرمایا۔اسی طرح تیسری بار صنعاء یمن کی طرف اشارہ فرمایا۔مخالفین مدینہ شرقی جانب اُترے اور کچھ بلندی کے رُخ اُترے۔غرض یوں اوپر نیچے سے دشمنوں کے کثرت محاصرہ سے مسلمانوں کا ناک میں دم آ گیا۔پکے مومن خدا پر متوکل رہے اور منافق بے دل اور خدا اور رسول سے بدگمان۔یہ محاصرہ ایک مہینہ تک رہا۔سردی سخت پڑ رہی تھی۔اس غزوہ اور